بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بہنوئی‌سے‌بھی‌پردہ‌ضروری‌ہے‌چاہے‌اس‌نے‌سالی‌کو‌بچپن‌سے‌بیٹی‌کی‌طرح‌پالا‌ہو

سوال:۔

میں اپنے بہنوئی (دُولہا بھائی) کے پاس رہتی ہوں، بچپن ہی سے انہوں نے مجھے اپنی بیٹی کی طرح پالا ہے، مجھے بہت چاہتے ہیں۔ معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا بہنوئی سے پردہ ہے یا نہیں؟ بہنوئی سے نکاح نہیں ہوسکتا، اس لئے میرے خیال میں ان سے پردہ بھی نہیں ہونا چاہئے، اگر ہے تو میں کیا کروں؟ میرا یہ مسئلہ اسلامی مسئلے کے ساتھ ساتھ ذہنی اور نفسیاتی مسئلہ بھی بن گیا ہے، کیونکہ میری بہت خواہش ہے کہ میں نیک بن جاؤں، اس مقصد کے لئے میں نے ہر بُرائی کو اپنے دِل پر پتھر رکھ کر ختم کردیا ہے، لیکن یہ مسئلہ میرے بس کا روگ نہیں۔ باجی مجھے بہت چاہتی ہیں، اپنے آپ سے جدا نہیں کرسکتیں، کیونکہ وہ بہت بیمار رہتی ہیں، ان کی کوئی بیٹی بھی نہیں ہے۔ سب کچھ ہوسکتا ہے لیکن جس انسان کے چوبیس گھنٹے ساتھ رہا جائے اس سے پردہ کیسے ہوسکتا ہے؟ میں ہر وقت پریشان رہتی ہوں، شدید ذہنی اُلجھن کا شکار ہوں، ہر وقت خوفِ خدا اور خدا کے عذاب کے کھٹکے نے مجھ سے میرا چین چھین لیا ہے۔ لوگ میری حالت پر شک کرتے ہیں، اس مسئلے کو جب بتاتی ہوں تو کوئی بھی یقین نہیں کرتا کہ میں اتنے سے مسئلے کے لئے اتنی پریشان ہوں، وہ اسے چھوٹا سا مسئلہ ہی سمجھتے ہیں، لیکن میں اپنے ضمیر کو کس کونے میں سلاؤں جو ہر وقت مجھ کو پریشان کئے رکھتا ہے، میری عمر ۱۹ سال ہے، سیکنڈ ایئر کی طالبہ ہوں۔

جواب:۔

پردہ تو بہنوئی سے بھی ہے،(۱) لیکن چادر کا پردہ کافی ہے۔ بلاضرورت بات نہ کی جائے، نہ بلاضرورت سامنے آیا جائے، اور حتی الوسع پورے بدن کو چھپاکر رکھا جائے، اور اگر اس میں کوتاہی ہوجائے تو توبہ و اِستغفار سے اس کی تلافی کی جائے۔

  1. (۱)ﵟ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّۖ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣١۔ نیز ص:۸۱ کا حاشیہ نمبر۴ دیکھئے۔