بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

سفرِ‌حج‌میں‌بھی‌عورتوں‌کے‌لئے‌پردہ‌ضروری‌ہے

سوال:۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ سفرِ حج میں چالیس حاجیوں کا ایک گروپ ہوتا ہے، جس میں محرَم اور نامحرَم سب ہوتے ہیں، ایسے مبارک سفر میں بے پردہ عورتوں کو تو چھوڑئیے باپردہ عورتوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ پردے کا بالکل اہتمام نہیں کرتیں، جب ان سے پردے کا کہا جاتا ہے تو اس پر جواب دیتی ہیں کہ: ’’اس مبارک سفر میں پردے کی ضرورت نہیں اور مجبوری بھی ہے‘‘ اس کے ساتھ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ حرم میں عورتیں نماز و طواف کے لئے باریک کپڑا پہن کر تشریف لاتی ہیں اور ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ خوب آدمیوں کے ہجوم میں طواف کرتی ہیں اور اسی طرح حجرِ اَسوَد کے بوسے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا ایسی مجبوری کی حالت میں شریعت کے یہاں پردے میں کوئی رعایت ہے؟ چاہئے تو یہ تھا کہ ایسے مبارک سفر میں حرام سے بچے تاکہ حج مقبول ہو، اس طرح کے کپڑے پہن کر طواف و نماز وغیرہ کے لئے آنا شریعت میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟

جواب:۔

اِحرام کی حالت میں عورت کو حکم ہے کہ کپڑا اس کے چہرے کو نہ لگے، لیکن اس حالت میں جہاں تک اپنے بس میں ہو، نامحرَموں سے پردہ کرنا ضروری ہے، اور جب اِحرام نہ ہو تو چہرے کا ڈھکنا لازم ہے۔(۱) یہ غلط ہے کہ مکہ مکرّمہ میں یا سفرِ حج میں پردہ ضروری نہیں، عورت کا باریک کپڑا پہن کر (جس میں سے سر کے بال جھلکتے ہوں) نماز اور طواف کے لئے آنا حرام ہے، اور ایسے کپڑے میں ان کی نماز بھی نہیں ہوتی۔(۲) طواف میں عورتوں کو چاہئے کہ مردوں کے ہجوم میں نہ گھسیں اور حجرِ اَسوَد کا بوسہ لینے کی بھی کوشش نہ کریں، ورنہ گناہگار ہوں گی اور ’’نیکی برباد، گناہ لازم‘‘ کا مضمون صادق آئے گا۔ عورتوں کو چاہئے کہ حج کے دوران بھی نمازیں اپنے گھر پر پڑیں، گھر پر نماز پڑھنے سے پورا ثواب ملے گا، ان کا گھر پر نماز پڑھنا، حرم شریف میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔ اور طواف کے لئے رات کو جائیں اس وقت رش نسبتاً کم ہوتا ہے۔

  1. (۱) وستر الوجہ (درمختار) وأطلقہ فشمل المرأۃ لما فی البحر عن غایۃ البیان من أنھا لَا تغطی وجھھا إجماعًا اھـ۔ أی وإنما تستر وجھھا عن الأجانب بإسدال شیئٍ متجاف لَا یمس الوجہ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۸۸ فصل فی الْإحرام، کتاب الحج)۔
  2. (۲) وقال فی الفتاوی الحاقانیۃ المعتبر فی افساد الصلاۃ انکشاف ما فوق الأذنین من الشعر۔ (حلبی کبیر ص: ۲۱۲)۔