پردہ
لڑکوںکاعورتلیکچرارسےتعلیمحاصلکرنا
سوال:۔
اسلام کی رُو سے یہ حکم ہے کہ عورت کو بے پردہ ہوکر باہر نہیں نکلنا چاہئے، اب جبکہ خواتین، طلبہ کے کالجز میں بھی آچکی ہیں تو ہمیں پیریڈ کے دوران ان سے سوال بھی پوچھنا پڑتا ہے تو پڑھانے والی گناہگار ہیں کہ پڑھنے والے جبکہ ہم مجبور ہیں؟
جواب:۔
عورتوں کا بے پردہ نکلنا جاہلیتِ جدیدہ کا تحفہ ہے۔ شاید وہ وقت عنقریب آیا چاہتا ہے جس کی حدیث پاک میں خبر دی گئی ہے کہ مرد و عورت سرِ بازار جنسی خواہش پوری کیا کریں گے اور ان میں سب سے شریف آدمی وہ ہوگا جو صرف اتنا کہہ سکے گا کہ: ’’میاں! اس کو کسی اوٹ میں لے جاتے‘‘۔(۱) جہاں تک آپ کی مجبوری کا تعلق ہے، بڑی حد تک یہ مجبوری بھی مصنوعی ہے، طلبہ جہاں اور بہت سے مطالبات کرتے رہتے ہیں اور ان کے لئے اِحتجاج کرتے ہیں، کیا حکومت سے یہ مطالبہ نہیں کرسکتے کہ انہیں اس گناہگار زندگی سے بچایا جائے؟(۲)
- (۱) عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم أنہ قال: لَا تقوم الساعۃ حتّٰی لَا یبقی علٰی وجہ الأرض أحد ﷲ فیہ حاجۃ، وحتّٰی توجد المرأۃ نھارًا جھارًا تنکح وسط الطریق لَا ینکر ذالک أحد ولَا یغیرہ، فیکون أمثلھم یومئذ الذی یقول: لو نحیتھا عن الطریق قلیلا فذاک فیھم مثل أبی بکر وعمر فیکم۔ (المستدرک للحاکم ج:۴ ص:۴۹۵)۔
- (۲) قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من رأی منکم منکرًا فلیغیرہ بیدہ، فإن لم یستطع فبلسانہ، فإن لم یستطع فبقلبہ وذالک أضعف الْإیمان۔ رواہ مسلم۔ (مشکٰوۃ ص:۴۳۶، باب الأمر بالمعروف، الفصل الأوّل)۔

