پردہ
گاؤںمیںپردہنہکرنےوالیبیویکوکسطرحسمجھائیں؟
سوال:۔
ایک گاؤں میں عام پردہ کا رواج نہیں، مگر ایک لڑکی جو قبل از نکاح پردہ نہیں کرتی تھی، اب بعد از نکاح اس کا خاوند جو شرعی اور مذہبی نوعیت کا آدمی ہے، اس کو پردے کا حکم دیتا ہے تو وہ خوش اخلاقی سے جواباً کہتی ہے کہ: ’’میں آپ کی بات مانوں گی مگر اپنی بہنوں اور والدہ اور بھابھیوں کو ذرا فرمائیے کہ وہ بھی پردہ رکھیں‘‘ جبکہ وہ ذمہ داری والد اور بھائیوں کی ہے، اس میں خاوند کا کوئی بس ہی نہیں چلتا تو ایسی صورت میں خاوند کو بیوی سے کیا سلوک کرنا چاہئے؟ کیا طلاق دے دے یا تشدّد کرے یا پھر دُوسری کوئی صورت ہے؟
جواب:۔
عام رشتہ داروں سے پردہ ضروری ہے۔(۱) اور بیوی کی یہ دلیل دُرست نہیں کہ فلاں پردہ کیوں نہیں کرتی۔ شوہر کو چاہئے کہ جب عام رواج پردے کا نہیں ہے، سختی سے کام نہ لے، متانت اور محبت و پیار سے اس کو سمجھائے،(۲) اور اگر اس کو یقین ہے کہ طلاق دینے کی صورت میں اسے اس سے اچھی باپردہ بیوی مل سکتی ہے تو اس کی اپنی صوابدید ہے۔
- (۱) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩
- (۲) ﵟ ٱدۡعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِٱلۡحِكۡمَةِ وَٱلۡمَوعِظَةِ ٱلۡحَسَنَةِ ﵞ سورة النحل ١٢٥

