پردہ
کیابیمارمردکیتیمارداریعورتکرسکتیہے؟
سوال:۔
میں مقامی بڑے اسپتال میں بطور نرس کام کرتی ہوں اور یہی میرا ذریعۂ معاش ہے، اور کوئی کفالت کرنے والا بھی نہیں، قرآن اور سنت کی روشنی میں بتائیں کہ ہم مسلمان لڑکیوں کو اس پیشے سے وابستگی رکھنی چاہئے؟ معاشرے میں لوگ مختلف خیال رکھتے ہیں، جبکہ ہم انسانیت کی خدمت کرتے ہیں، جہاں ماں باپ، عزیز رشتہ دار بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں، ہمارے ہاتھوں میں کئی لاوارث دَم توڑتے ہیں، جن کو کوئی کلمہ پڑھانے والا نہیں ہوتا اور کئی لاوارث دُعائیں دیتے ہیں کہ ہمیں شفا اللہ نے دی، اس کے بعد آپ لوگوں کی دیکھ بھال، تیمارداری ہے۔ دِماغ عجیب اُلجھن میں پڑا رہتا ہے، اس کا حل بتائیں، ہم نرسوں کا اسلام میں کیا مقام ہے؟ ہمیں یہ پیشہ اختیار رکھنا چاہئے یا ترک کردیں؟ اور بہنوں کو روکیں یا ترغیب دیں؟
جواب:۔
بیمار کی تیمارداری تو بہت اچھی بات ہے، لیکن نامحرَم مردوں سے بے حجابی اس سے بڑھ کر وبال ہے۔ عورتوں کے ذمہ خواتین کی تیمارداری کا کام ہونا چاہئے، مردوں کی تیمارداری کی خدمت عورتوں کے ذمہ صحیح نہیں۔(۱)
- (۱) ولَا تمس شیئًا منہ إذا کان أحدھما شابًّا فی حد الشھوۃ وإن أمنا علٰی أنفسھما الشھوۃ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۷، کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر إلیہ)۔

