پردہ
عورتکومردڈاکٹرسےپوشیدہجگہوںکاعلاجکروانا
سوال:۔
میرے دوست کی بیوی جنسی علاج کی غرض سے سوِل ہسپتال گئی، وہاں پر اس نے دیکھا کہ مرد ڈاکٹر عورتوں کو برہنہ کرکے ان کا چیک اپ کرتے ہیں، جب اس عورت کو مرد ڈاکٹر نے برہنہ ہونے کو کہا تو اس نے اپنا علاج کرانے سے انکار کردیا اور وہ گھر چلی آئی۔ یہ عورت ابھی تک اس جنسی مرض میں مبتلا ہے۔ کیا شریعت میں اس بات کی گنجائش ہے کہ کوئی مرد علاج کی غرض سے کسی مسلمان خاتون کے پوشیدہ حصے کو اپنے ہاتھوں سے چھوئے؟ اگر نہیں تو آپ خود بتائیے کہ مسلمان خواتین کس طرح اپنے مذہب کے بتائے ہوئے اُصولوں پر زندگی گزاریں؟ جبکہ علاج کرانا بھی ضروری ہو، جبکہ آج کل سرکاری زچہ خانوں میں سارے کام مرد ڈاکٹر کرتے ہیں اور شریعت میں تو پردے کی اتنی اہمیت ہے کہ عورت کا ناخن تک کوئی غیرمرد نہیں دیکھ سکتا۔ مولوی صاحب! میرا مقصد صرف مسئلہ معلوم کرنا نہیں، بلکہ آپ عالمِ دِین کا یہ فرض ہے کہ آپ اس بڑھتی ہوئی بے غیرتی کو روکیں، ورنہ مستقبل میں ہمارے ملک کا ایسا حال ہوگا جیسا کہ آج کل یورپ کا ہے۔
جواب:۔
مسئلہ تو آپ نہیں پوچھنا چاہتے، اور اس بڑھتی ہوئی بے غیرتی کا انسداد، میرے، آپ کے بس کا نہیں۔ یہ حکومت کا فرض ہے کہ خواتین کی اس بے حرمتی کا فوری انسداد کرے۔ شرم و حیا ہی انسانیت کا جوہر ہے، یہ نہ ہو تو انسان، انسان نہیں بلکہ آدمی نما جانور ہے، بدقسمتی سے یہ جدید تہذیب میں شرم و حیا کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صرف یورپ میں ہی نہیں بلکہ کراچی میں بھی عورتیں سربرہنہ بازاروں میں گشت کرتی ہیں، دفتروں میں اجنبی مردوں کے برابر بیٹھتی اور بے تکلفی میں ان سے ہاتھ ملاتی ہیں، درزیوں کو کپڑوں کا ناپ دیتی ہیں، ان سے اپنے بدن کی پیمائش کراتی ہیں اور یہ سب کچھ ترقی کے نام پر ہو رہا ہے۔ جس معاشرے میں نہ اسلامی اَحکام کا لحاظ ہو، نہ خدا اور رسول سے شرم ہو، نہ عورتوں کو مردوں سے شرم ہو، نہ انہیں اپنی نسوانیت کا احساس ہو، وہاں اگر دائی جنائی کا کام بھی مردوں کے سپرد کردیا جائے تو تہذیبِ جدید کے فلسفے کے عین مطابق ہے! یہی وجہ ہے کہ ہمارے بڑے گھرانوں کی بیگمات کو اس سانحے کا علم ہے، مگر ان کی طرف سے کبھی اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہیں ہوئی۔ جہاں تک ناگزیر حالات میں اجنبی مرد سے علاج کرانے کا تعلق ہے، شریعت نے اس کی اجازت دی ہے، مگر اسی کے ساتھ اس کے حدود بھی متعین کئے ہیں۔(۱)
- (۱) وامتنع نظرہ إلٰی وجھھا إلّا لحاجۃ ۔۔۔ ومداواتھا ینظر الطبیب إلٰی موضع مرضھا بقدر الضرورۃ إذا الضرورات تتقدر بقدرھا۔ (درمختار)۔ فینبغی أن یعلم امرأۃ تداویھا فإن لم توجد وخافوا علیھا أن تھلک أو یصیبھا وجع لَا تحتملہ یشتروا منھا کل شی إلّا موضع العلۃ ثم یداویھا الرجل ویغض بصرہ ما استطاع إلّا عن موضع الجرح والظاھر أن ینبغی ھنا للوجوب۔ (ردالمحتار علی الدر المختار ج:۶ ص:۳۷۱، کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی النظر والمس)۔

