بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

سگے‌بھائی‌سے‌پردہ‌نہیں

سوال:۔

ہم نے سنا ہے کہ شریعت کی رُو سے اسلام میں سگے بھائی سے بھی پردہ واجب ہے، اور اگر نہ کرو تو گناہ ہے، اس وجہ سے ہم سخت اُلجھن کا شکار ہیں، ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا، لیکن اگر یہ بات صحیح ہے تو پھر والد سے بھی پردہ لازم ہے۔

جواب:۔

جن عزیزوں سے نکاح ہمیشہ کے لئے حرام ہے جیسے: باپ، دادا، بھائی، بھتیجا، بھانجا ان سے پردہ نہیں، ایسے لوگ ’’محرَم‘‘ کہلاتے ہیں۔(۱) البتہ اگر کسی کا کوئی محرَم بے دِین ہو اور اس کو عزّت و آبرو کی شرم نہ ہو، اس سے بھی پردہ کرنا ضروری ہے۔(۲)

  1. (۱) (ومن محرمہ) ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدًا بنسب ۔۔۔ وأصلہ قولہ تعالٰی: ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣١۔۔۔إلخ۔ (فتاویٰ عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۸، کتاب الکراھیۃ، فتاویٰ شامی ج:۶ ص:۳۶۷، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
  2. (۲) قال محمد ویجوز لہ أن یسافر بھا ویخلو بھا یعنی إذا أمن علٰی نفسہ فإن علم انہ یشتھیھا أو تشتھیہ إن سافر بھا أو خلا بھا، أو کان أکبر رأیہ ذالک أو شک فلا یباح لہ ذالک۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۸، کتاب الکراھیۃ)۔