پردہ
کیاشوہرکےمجبورکرنےپراسکےبھائیوںاوربہنوئیوںسےپردہنہکروں؟
سوال:۔
شادی سے پہلے مجھے دِین سے شغف تو تھا، لیکن شادی کے بعد دِینی کتابوں کے مطالعے کا موقع بھی ملا، کیونکہ شوہر صوم و صلوٰۃ کے پابند ہیں اور دِینی کتب کا مطالعہ بھی کرتے ہیں۔ پھر ایک مرحلہ ایسا آیا کہ میں نے پردہ شروع کردیا، جب سسرال والوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے ایک طوفان کھڑا کردیا۔ نند اور سسر نے ایسا لتاڑا کہ الامان والحفیظ! جس کی وجہ سے میرے شوہر بھی مجھ سے بدگمان ہوگئے اور یہ سمجھنے لگے کہ میں ان سے ان کے رشتہ داروں کو چھڑانا چاہتی ہوں۔ حتیٰ کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ وہ مجھے چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔ شوہر چاہتے ہیں کہ میں ان کے بھائیوں اور بہنوئیوں سے پردہ نہ کروں، جبکہ میں یہ نہیں چاہتی۔ میں ان کے بھائیوں کے سامنے زیادہ نہیں جاتی اور نہ ہی ان کے بھائیوں سے زیادہ بات کرتی ہوں۔ اس صورتِ حال میں مجھے کیا کرنا چاہئے؟ آنجناب اپنے قیمتی مشورے سے سرفراز فرمائیں۔
جواب:۔
بیٹی! تمہارے لئے سسرال والوں کی ناواقفی مجاہدہ ہے۔ بہرحال جہاں ایسا ماحول ہو، کوشش کرو کہ چہرہ، دونوں کلائیاں اور دونوں پاؤں کے علاوہ پورا بدن ڈھکا رہے، اور ضرورت کی بات کرنے کی اجازت ہے۔(۱) بہرحال اپنے لئے اِستغفار بھی کرتی رہو اور اللہ تعالیٰ سے دُعا بھی کرتی رہو۔ اِن شاء اللہ تم اللہ کے سامنے سرخرو ہوجاؤگی۔
- (۱) کذا یفھم من تعلیم الطالب للتھانوی ص:۵۔

