بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

اگر‌فتنے‌کا‌اندیشہ‌نہ‌ہو‌تو‌عورت‌چہرہ‌کھول‌سکتی‌ہے

سوال:۔

زید کہتا ہے کہ عورت کا چہرہ ان اعضاء میں نہیں جس کا چھپانا ضروری ہے، بکر کہتا ہے کہ اگر عورت اپنا چہرہ نہ چھپائے تو پھر پردے کا فائدہ کیا ہے، سب سے زیادہ موجبِ فتنہ تو یہی چہرہ ہے، اگر عورت اپنے چہرے کو نہ چھپائے تو کیا اس کو شرع میں پردہ کہا جائے گا؟ پردے کی آیت کے نزول کے وقت صحابیات رضوان اللہ تعالیٰ علیہنّ کا کیا عمل تھا؟

جواب:۔

ایک ہے چہرے کو ڈھانپنا، دُوسرا ہے غیرمحرَم سے پردہ کرنا، تو شارع نے عورت کے چہرے کو ستر نہیں بنایا، تو عورت پر چہرے کا ڈھانپنا گھر میں واجب نہیں، البتہ غیرمحرَم سے پردہ کرنا واجب ہے۔ ہاں! اگر فتنے کا خطرہ نہ ہو تو عورت چہرہ کھول سکتی ہے۔(۱)

  1. (۱) وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لَا لأنہ عورۃٌ بل لخوف الفتنۃ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔