بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بے‌پردگی‌کی‌شرط‌لگانے‌والی‌یونیورسٹی‌میں‌پڑھنا

سوال:۔

ایک مسئلہ یہ ہے کہ جس کی خبر سن کر میں حیران پریشان رہ گیا، جس کا اثر ابھی تک ہے۔ وہ یہ ہے کہ جدہ میں ایک یونیورسٹی نوجوان لڑکیوں کی ہے جس کے چند اُصولوں میں ایک اُصول یہ ہے کہ اس یونیورسٹی کا لباس اسکرٹ (جس کی لمبائی گھٹنے تک ہوتی ہے) ہے، جس کا پہننا ہر لڑکی کے لئے ضروری ہے۔ دُوسرا اُصول یہ ہے کہ اس یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہی دوپٹہ پہننا ممنوع، بلکہ سخت جرم ہے۔ اگرچہ راستے میں اور اس یونیورسٹی تک برقع کی حالت میں آنا لازمی ہے۔ پوچھنا یہ ہے کہ آیا اس یونیورسٹی میں پڑھانا لڑکیوں کو کیسا ہے؟ کیونکہ میری بھابھی وہاں پڑھتی ہے؟ براہ مہربانی تفصیل سے جواب دیں کہ وہاں لڑکیوں کو پڑھانا کیسا ہے؟ اور اسی طرح عورت کے لئے بغیر دوپٹہ کے گھر کی چاردیواری میں پڑھنا کیسا ہے؟ جس کی وجہ سے سینہ بھی ظاہر ہو۔

جواب:۔

اگر وہاں کسی غیرمرد کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ یونیورسٹی کا عملہ عورتوں ہی پر مشتمل ہے، تو مسلمان عورتوں کے سامنے عورت کا سر کھولنا جائز ہے۔(۱) اور اگر وہاں مرد لوگ بھی ہوتے ہیں تو ان کے سامنے سر اور چہرہ کا ڈھکنا فرض ہے، اور مردوں کے سامنے کھولنا حرام ہے۔(۲) ایسی صورت میں اس یونیورسٹی میں پڑھنا ہی جائز نہیں۔

  1. (۱) وتنظر المرأۃ المسلمۃ من المرأۃ کالرجل من الرجل۔ (تنویر الأبصار مع شرحہ ج:۶ ص:۳۷۱، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔
  2. (۲) وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین الرجال لَا لأنہ عورۃ، بل لخوف الفتنۃ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔