بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

دیور‌اور‌جیٹھ‌سے‌پردہ‌ضروری‌ہے،‌اس‌معاملے‌میں‌والدین‌کی‌بات‌نہ‌مانی‌جائے

سوال:۔

آج کل بہت سے جرائم دیور اور جیٹھ کی وجہ سے ہو رہے ہیں، میری نگاہ سے ایک حدیث گزری ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ: اگر دیور بھابھی سے پردہ نہ کرے تو اس پر ہلاکت ہو، اور اگر بھابھی اس سے پردہ نہ کرے تو اس پر ہلاکت ہو۔ میں نے جب یہ شرط اپنے گھر میں عائد کی، یعنی اپنی بیوی سے دیور اور جیٹھ کے پردے کے لئے کہا تو میرے گھر والوں نے مجھے گھر سے نکل جانے کی دھمکی دی۔ دُوسری طرف یہ بھی حکم ہے کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے۔ ایک سنت پر عمل کرنے کے لئے دُوسری سنت کو ترک کرنا پڑ رہا ہے، اگر کہیں یہ عمل ہوتا ہے تو معاشرے کے لوگ اسے بے غیرت کہتے ہیں کہ اپنے بھائیوں پر شک کرتا ہے۔ میں آپ سے گزارش کرتا ہوں کہ قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کا حل بتایا جائے۔

جواب:۔

عورت اپنے دیور، جیٹھ کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے، چہرے کا پردہ کرے، بے تکلفی کے ساتھ باتیں نہ کرے، ہنسی مذاق نہ کرے،(۱) بس اتنا کافی ہے۔ اس پر اپنی بیوی کو سمجھا لیجئے۔ آج کل چونکہ پردے کا رواج نہیں، اس لئے معیوب سمجھا جاتا ہے۔ والدین کی بے ادبی تو نہ کی جائے، لیکن خدا و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کوئی بات کہیں تو ان کے حکم کی تعمیل نہ کی جائے۔(۲)

  1. (۱) عن عقبۃ بن عامر ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: إیاکم والدخول علی النساء! فقال رجل من الأنصار: یا رسول اللہ! أفرأیت الحمو؟ قال: الحمو الموت! (بخاری ج:۲ ص:۷۸۷، بابٌ لَا یخلونّ رجل بإمرأۃ)۔
  2. (۲) ﵟ وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوٰلِدَيۡهِ حُسۡنٗاۖ وَإِن جَٰهَدَاكَ لِتُشۡرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِۦ عِلۡمٞ فَلَا تُطِعۡهُمَآ ﵞسورة العنكبوت ٨ الآية أیضًا: عن علی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لَا طاعۃ فی معصیۃ، إنما الطاعۃ فی المعروف۔ متفق علیہ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۱۹، کتاب الْإمارۃ، الفصل الأوّل)۔