پردہ
نامحرَمجوانمردوعورتکاایکدُوسرےکوسلامکرنا
سوال:۔
اکثر ہمارا واسطہ تایازاد، چچازاد، ڈاکٹروں، اُستادوں اور اسی طرح کے محرَم اور نامحرَم لوگوں سے پڑتا ہے۔ جبکہ ایک مسلمان ہونے کے ناتے یہ اچھا محسوس نہیں ہوتا کہ سلام یا ابتدائی کلمات ادا کئے بغیر بات کی جائے، عورت (بالغ و نابالغ) کیا مردوں محرَم و غیرمحرَم کو سلام کرسکتی ہے؟ اگر نہیں، تو بات کا آغاز کس طرح کرے؟
ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم (آپ پر میں اور میرے والدین قربان) سے دریافت کیا کہ اسلام کی کون سی صفات بہترین ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ: کھانا کھلانا اور ہر شخص کو سلام کرنا چاہئے خواہ تم اس کو جانتے ہو یا نہیں۔
جواب:۔
نامحرَم کو سلام کرنا، جبکہ دونوں جوان ہوں، فتنے سے خالی نہیں، اس لئے سلام کرنا اور سلام کا جواب دینا دونوں جائز نہیں۔(۱)
- (۱) ولَا یکلم الأجنبیۃ إلّا عجوزًا عطست أو سلمت فیشتمھا ویرد السلام علیھا وإلّا لَا۔ (درمختار)۔ أی والّا تکن عجوزًا بل شابۃ لَا یشمتھا ولَا یرد السلام بلسانہٖ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۶ ص:۳۶۹، کتاب الحظر والْإباحۃ، باب فی النظر والمس)۔

