پردہ
بےپردگیاورغیراِسلامیطرزِزندگیپرقہرِالٰہیکااندیشہ
سوال:۔
میں آپ کی توجہ ایک اہم مسئلے کی طرف دِلانا چاہتا ہوں، اُمید ہے کہ آپ بغیر کسی رُو رعایت کے جواب سے مستفیض فرمائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ رمضان کے روزے اللہ تعالیٰ نے فرض فرمائے، قرآن میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’لوگو! تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے جیسا کہ تم سے پہلی اُمتوں پر، تاکہ تم متقی اور پرہیزگار بن جاؤ‘‘ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج کے دور میں مرد اور خواتین ایک دُوسرے سے آزادانہ طور پر ملتے ہیں، خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبۂ زندگی میں کام کر رہی ہیں۔ آج کی عورت بے پردہ ہوکر، بناؤ سنگھار کے ساتھ بازاروں، گلی کوچوں اور بس اِسٹاپوں غرض کہ ہر جگہ پر اِٹھلاتی نظر آتی ہے، اس بے پردہ عورت کا لباس نیم برہنگی کا احساس دِلاتا ہے اور نیک طینت مرد کی نظریں شرم سے جھک جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’’عورتیں اپنی زینت نہ دِکھاتی پھریں‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ عورت غیرمرد کے سامنے نہ آئے، ہاں! پردے میں رہ کر اپنی ضروری حاجتوں کو پورا کرسکتی ہے، آپ کہیں گے کہ مرد غیرعورت کو دیکھتے ہی کیوں ہیں؟ اور یہی سوال ہر بے پردہ عورت بھی کرتی ہے، میرا اِستدلال یہ ہے کہ کیا عورت کو غیرمرد کا دیکھنا جائز ہے؟
حضرت عائشہ صدیقہؓ ایک مرتبہ ایک نابینا صحابی کے سامنے آگئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! تم نے ایسا کیوں کیا؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ! یہ نابینا ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تو نابینا نہیں ہو! اس طرح آپ صلی اللہ علیہ سلم نے حضرت عائشہؓ کو تنبیہ فرمائی اور قیامت تک آنے والی خواتین کے لئے ہدایت۔ اب آپ بتائیے کہ آج کے دور میں کوئی مرد یا عورت روزہ رکھ کر متقی اور پرہیزگار بن سکتا ہے جبکہ ہر طرف بنی سنوری عورتیں گھومتی پھرتی نظر آتی ہیں؟ اور اس پر عورتوں کی یہ ہٹ دھرمی کہ مرد ہمیں دیکھتے ہی کیوں ہیں؟ مرد کہاں کہاں نظریں نیچی کریں گے، عورت سایے کی طرح ہر جگہ ساتھ ساتھ ہے، کیا عورت برقع یا چادر اوڑھ کر ضروری کام نہیں کرسکتی؟ کیا وہ بغیر دوپٹہ کے ٹرانسپیرنٹ لباس پہن کر دُنیا کے کام انجام دے سکتی ہے؟ یہ بنیادی اَحکامات عورت نے پسِ پشت ڈال دئیے اور روزہ رکھنے لگی، جس میں طہارت، تقویٰ اور پرہیزگاری بنیادی جز ہیں۔ مجھے اُمید ہے کہ آپ اس سلسلے میں صاف گوئی سے کام لیتے ہوئے اطمینان بخش جواب مرحمت فرمائیں گے۔
جواب:۔
آپ نے ہمارے عریاں معاشرے کے بارے میں جو کچھ تحریر فرمایا ہے اس پر سوائے اظہارِ افسوس اور اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن پڑھنے کے میں کیا تدبیر عرض کرسکتا ہوں؟ شرم و حیا عورت کی زینت ہے، اور پردہ اس کی عزّت و عصمت کا نگہبان! سب سے اوّل تو خود ہماری خواتین کو اپنا مقام پہچاننا چاہئے تھا، ان عورتوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے جو بناؤ سنگھار کرکے بے محابا بازاروں میں نکلتی ہیں۔(۱) کیا کوئی عورت جس کے دِل میں ذرّۂ ایمان موجود ہو وہ خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت لینے کے لئے تیار ہوسکتی ہے؟
دُوسرے:۔ ان خواتین کے والدین، بھائیوں، شوہروں اور بیٹوں کا فرض ہے کہ جو چیز اسلامی غیرت کے خلاف ہے اسے برداشت نہ کریں، بلکہ اس کی اصلاح کے لئے فکرمند ہوں، حیا اور ایمان دونوں اہم ترین ہیں، جب ایک جاتا ہے تو دُوسرا بھی اسی کے ساتھ رُخصت ہوجاتا ہے۔
تیسرے:۔ معاشرے کے برگزیدہ اور معزّز افراد کا فرض ہے کہ اس طغیانی کے خلاف جہاد کریں، اور اپنے اثر و رُسوخ کی پوری طاقت کے ساتھ معاشرے کو اس گندگی سے نکالنے کی فکر کریں۔
چوتھے:۔ حکومت کا فرض ہے کہ اس کے انسداد کے لئے عملی اقدامات کرے۔ اس قوم کی بدقسمتی ہے کہ ہمارا پورے کا پورا معاشرہ ملعون اور اخلاق باختہ قوموں کی غلط رَوِش پر چل نکلا ہے، وضع و قطع، نشست و برخاست اور طور و طریق سب بدکردار و بداَطوار قوموں کے اپنائے جارہے ہیں۔
اگر اس خوفناک ذِلت و گراوَٹ اور شر و فساد کی اِصلاح کی طرف توجہ نہ دی گئی تو اندیشہ اس بات کا ہے کہ خدانخواستہ اس قوم پر قہرِ اِلٰہی نازل نہ ہو، نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ غَضَبِ اللہِ وَغَضَبِ رَسُوْلِہٖ!
- (۱) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صنفان من أھل النار لم أرھما ۔۔۔ ونساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات رؤسھن کأسنمۃ البخت المائلۃ، لَا یدخلن الجنّۃ ولَا یجدن ریحھا، وإن الریح لتوجد من مسیرۃ کذا وکذا۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۵، باب النساء الکاسیات)۔

