بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

کیا‌۴۵،‌۵۰‌سال‌عمر‌کی‌عورت‌کو‌ایسے‌لڑکے‌سے‌پردہ‌کرنا‌ضروری‌ہے‌جو‌اس‌کے‌سامنے‌جوان‌ہوا‌ہو؟

سوال:۔

کیا ۴۵، ۵۰ سال کی عمر کی عورت پر نامحرَم سے پردہ نہ کرنا صحیح ہے؟ وہ اس لئے کہ ایک عورت ۲۵ سال کی ہے، اس کے محلہ میں کسی کے ولادت ہوئی ہے، آج اس عورت کی عمر پچاس سال ہے، جبکہ اس کے سامنے ہونے والا بچہ آج جوان ہے، اور وہ اس لئے پردہ نہیں کرتی کہ اس کے سامنے پلا اور جوان ہوا، یہ میرا بیٹا اور میں اس کی ماں کے برابر ہوں۔

جواب:۔

قرآنِ کریم کی آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو بڑی بوڑھی نکاح کی میعاد سے گزرگئی ہو وہ اگر غیرمحرَم کے سامنے چہرہ کھول دے، بشرطیکہ زینت کا اظہار نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، لیکن پردہ اس کے لئے بھی بہتر ہے۔(۱) اور یہ بات محض فضول ہے کہ: ’’یہ بچہ تو میرے سامنے پل کر جوان ہوا ہے، اس لئے اس سے پردہ نہیں۔‘‘

  1. (۱) قال تعالٰی: ﵟ وَٱلۡقَوَٰعِدُ مِنَ ٱلنِّسَآءِ ٱلَّٰتِي لَا يَرۡجُونَ نِكَاحٗا فَلَيۡسَ عَلَيۡهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعۡنَ ثِيَابَهُنَّ غَيۡرَ مُتَبَرِّجَٰتِۭ بِزِينَةٖۖ وَأَن يَسۡتَعۡفِفۡنَ خَيۡرٞ لَّهُنَّۗ وَٱللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٞ ﵞ سورة النور ٦٠