بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بغرضِ‌علاج‌اعضائے‌مستورہ‌کو‌دیکھنا‌اور‌چھونا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

میں ایم بی بی ایس (ڈاکٹر) کا طالبِ علم ہوں، جسمِ انسانی کی اصلاح ہماری تعلیم و تربیت کا موضوع ہے، تربیت کے زمانے میں ہمیں جسمِ انسانی کے تمام اعضاء کی ساخت سمجھائی جاتی ہے اور تمام اعضائے انسانی میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج کی تدابیر پڑھائی جاتی ہیں۔ بعض اوقات بغرضِ علاج اور زیر تربیت ڈاکٹروں کو بغرضِ تربیت مرد و عورت کے مستور حصوں کو دیکھنا پڑتا ہے، مجھے اِشکال پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لئے ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟ بالخصوص عورت (مریضہ) کے مستور اعضاء کو دیکھنا یا ہاتھ لگانا مثلاً عملِ زچگی میں پیش آنے والی بیماریوں کا بغرضِ علاج دیکھنا اور زیر تربیت ڈاکٹروں کا بغرضِ تربیت اس عمل کو دیکھنا جائز ہوگا یا نہیں؟ یاد رہے کہ یہ عمل صرف شدید ضرورت کے وقت بغرضِ علاج اور بغرضِ تربیت کیا جاتا ہے اور کالج کے قواعد اور نصاب کے مطابق تمام زیر تربیت ڈاکٹروں کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔ صورتِ مسئولہ کے پیشِ نظر آپ میری رہنمائی فرمائیں کہ کسی زیر تربیت ڈاکٹر (مرد) کے لئے بغرض تربیت کسی مریضہ کے اندامِ نہانی اور عملِ زچگی کو دیکھنا تاکہ زیر تربیت ڈاکٹر آئندہ بوقتِ ضرورت کسی ایسی عورت (مریضہ) کا علاج یا آپریشن کرسکے جائز ہے یا نہیں؟

جواب:۔

’’وَفِي شَرْحِ التَّنْوِیْرِ: وَمُدَاوَاتُھَا، یَنْظُرُ الطَّبِیْبُ اِلٰی مَوْضِعِ مَرَضِھَا بِقَدْرِ الضَّرُوْرَۃِ۔ اِذِ الضَّرُوْرَاتُ تَتَقَدَّرُ بِقَدْرِھَا۔ وَکَذَا نَظَرُ قَابِلَۃٍ وَخَتَّانٍ۔ وَیَنْبَغِیْ اَنْ یُّعَلِّمَ اِمْرَاَۃً تُدَاوِیْھَا لِاَنَّ نَظَرَ الْجِنْسِ اِلَی الْجِنْسِ اَخَفُّ۔ وَفِی الشَّامِیَّۃِ: قَالَ فِی الْجَوْھَرَۃِ: اِذَا کَانَ الْمَرَضُ فِیْ سَائِرِ بَدَنِھَا غَیْرِ الْفَرْجِ یَجُوْزُ النَّظَرُ اِلَیْہِ عِنْدَ الدَّوَاءِ لِاَنَّہٗ مَوْضِعُ ضَرُوْرَۃٍ۔ وَاِنْ کَانَ فِیْ مَوْضِعِ الْفَرْجِ فَیَنْبَغِیْ اَنْ یُّعَلِّمَ اِمْرَاَۃً تُدَاوِیْھَا، فَاِنْ لَّمْ تُوْجَدْ وَخَافُوْا عَلَیْھَا اَنْ تَھْلِکَ اَوْ یُصِیْبَھَا وَجَعٌ لَا تَحْتَمِلُہُ، یَسْتُرُوْا مِنْھَا کُلَّ شَیْءٍ اِلَّا مَوْضِعَ الْعِلَّۃِ ثُمَّ یُدَاوِیْھَا الرَّجُلُ وَیَغُضُّ بَصَرَہٗ مَا اسْتَطَاعَ اِلَّا عَنْ مَوْضِعِ الْجُرْحِ ۔۔۔ ۔ اِلَخ۔ فَتَاَمَّلْ وَالظَّاھِرُ اَنَّ یَنْبَغِیْ ھُنَا لِلْوُجُوْبِ۔‘‘ (رد المحتار ج:۶ ص:۷۱)

ترجمہ:۔ ’’اور شرح تنویر میں عورت کے علاج کے سلسلے میں ہے کہ: بقدرِ ضرورت مرد طبیب عورت کی مرض والی جگہ کو دیکھ سکتا ہے، کیونکہ ضرورت کو مقدارِ ضرورت میں محدود رکھا جاتا ہے۔ دائی جنائی اور ختنہ کرنے والے کا بھی یہی حکم ہے کہ بقدرِ ضرورت دیکھ سکتے ہیں۔ بہتر ہے کہ عورت کو عورت کے علاج کا طریقہ سکھایا جائے، کیونکہ عورت کا عورت کے حصۂ مستور کو دیکھنا بہرحال اَخف ہے۔ شامیہ میں جوہرہ کے حوالے سے ہے کہ: جب شرم گاہ کے علاوہ عورت کے کسی حصۂ بدن میں مرض ہو تو مرد طبیب بغرضِ علاج بقدرِ ضرورت مرض کی جگہ کو دیکھ سکتا ہے۔ اگر شرم گاہ میں بیماری ہو تو کسی خاتون کو اس کا طریقۂ علاج سمجھا دے، اگر ایسی کوئی عورت نہ ملے یا اس مریضہ کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہو، یا ایسی تکلیف کا اندیشہ ہو کہ جس کا وہ تحمل نہ کرسکے گی تو ایسی صورت میں مرد طبیب پورا بدن ڈھانپ کر بیماری والی جگہ کا علاج کرسکتا ہے، مگر باقی بدن کو نہ دیکھے، حتی الوسع غضِ بصر کرے۔‘‘

ان روایات سے مندرجہ ذیل اُمور مستفاد ہوئے:

۱:۔ طبیب کے لئے عورت کا علاج ضرورت کی بنا پر جائز ہے۔

۲:۔ اگر کوئی معالج عورت مل سکے تو اس سے علاج کرانا ضروری ہے۔

۳:۔ اگر کوئی عورت نہ مل سکے، تو مرد کو چاہئے کہ اعضائے مستورہ خصوصاً شرم گاہ کا علاج کسی عورت کو بتادے، خود علاج نہ کرے۔

۴:۔ اگر کسی عورت کو بتانا بھی ممکن نہ ہو، اور مریضہ عورت کی ہلاکت یا ناقابلِ برداشت تکلیف کا اندیشہ ہو تو لازم ہے کہ تکلیف کی جگہ کے علاوہ تمام بدن ڈھک دیا جائے، اور معالج کو چاہئے کہ جہاں تک ممکن ہو زخم کی جگہ کے علاوہ باقی بدن سے غضِ بصر کرے۔

بچہ جنائی کا کام خاص عورتوں کا ہے، اگر معاملہ عورتوں کے قابو سے باہر ہو (مثلاً: آپریشن کی ضرورت ہو اور آپریشن کرنے والی کوئی لیڈی ڈاکٹر بھی موجود نہ ہو) تو شرائطِ مندرجہ بالا کے ساتھ مرد علاج کرسکتا ہے۔ ہمارے یہاں تہذیبِ جدید کے تسلط اور تدین کی کمی کی وجہ سے ان اُمور کی رعایت نہیں کی جاتی اور بلاتکلف نوجوانوں کو زچگی کا عمل ہسپتالوں میں دِکھایا جاتا ہے جو شرعاً و عقلاً قبیح ہے۔ اگر طالبِ علم کو اس پر مجبور کیا جائے تو اس کے سوا کیا مشورہ دیا جاسکتا ہے کہ وہ جہاں تک ممکن ہو قلب و نظر کو بچائے اور اِستغفار کرتا رہے، واللہ اعلم!