پردہ
عورتکیآوازبھیشرعاًسترہے
سوال:۔
بعض برادریوں میں شادی بیاہ کے موقع پر خصوصاً عورتوں کی مجالس ہوتی ہیں، جن میں عورتیں جمع ہوتی ہیں اور لاؤڈ اسپیکر پر ایک عورت وعظ و نصیحت کرتی ہے، خوش الحانی سے نعتیں پڑھی جاتی ہیں، غیرمرد سنتے ہیں اور خوش الحانی سے پڑھی گئی نعتوں میں لذّت لیتے ہیں۔ یہ مجالس آیا ناجائز ہیں یا جائز؟ اگر غیرمرد اس میں دِلچسپی لیں تو اس کا گناہ منتظمین پر ہوتا ہے یا نہیں؟ اس مقصد کے لئے صحیح لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟
سوال:۔
شریعت میں عورت کی آواز کو بھی ستر قرار دیا گیا ہے، لیکن بازار جانے کی صورت میں خواتین اس کی پابند نہیں رہ سکتیں، ویسے بھی اللہ کے نزدیک بازار سب سے ناپسندیدہ جگہ ہے۔ اکثر خواتین کو ہمارے مرد بھائیوں نے بازار جانے پر خود مجبور کر رکھا ہے، کیا بحالت شدید مجبوری ایک پردہ دار خاتون اشیائے ضرورت کی خریداری کرسکتی ہے؟ اور ایسا کرنے پر وہ گناہ کی تو مرتکب نہ ہوگی؟
جواب:۔
عورت کی آواز شرعاً ستر ہے اور غیرمردوں کو اس کا سننا اور سنانا جائز نہیں، خصوصاً جبکہ موجبِ فتنہ ہو۔(۱) جلسے کے منتظمین، یہ گانے والیاں اور سننے والے سبھی گناہگار ہیں، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی اور بددُعا کے مستحق ہیں۔(۲)
جواب:۔
اصل تو یہی ہے کہ عورت بازار نہ جائے، لیکن اگر ضرورت ہو تو پردے کی پابندی کے ساتھ خرید و فروخت کرسکتی ہے،(۳) مگر نامحرَم کے سامنے آواز میں لچک پیدا نہ ہو۔(۴)
- (۱) ولَا نجیز لھنّ رفع أصواتھنّ ولَا تمطیطھا ولَا تلینھا وتقطیعھا لما فی ذالک من استمالۃ الرجال إلیھن وتحریک الشھوۃ منھم۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلٰوۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔
- (۲) عن بلال بن الحارث المزنی قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔۔۔ ومن ابتدع بدعۃ ضلالۃ لَا یرضاھا اللہ ورسولہ کان علیہ من الْإثم مثل آثام من عمل بھا لَا ینقص ذالک من أوزارھم شیئًا۔ رواہ الترمذی ورواہ ابن ماجۃ۔ (مشکٰوۃ ص:۳۰، باب الْإعتصام بالکتاب والسُّنَّۃ، الفصل الثانی)۔
- (۳) وقد قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: المرأۃ عورۃ فإذا خرجت استشرفھا الشیطان۔ رواہ الترمذی عن ابن مسعود فإن ھٰذا الحدیث یدل علٰی أنھا کلھا عورۃ غیر ان الضرورات مستثناۃ إجماعًا والضرورۃ قد تکون بأن لَا تجد المرأۃ من یأتی بحوائجھا من السوق ونحو ذالک فتخرج متقنعۃ کاشفۃ إحدیٰ عینھا یشعر الطریق۔ (تفسیر مظھری ج:۶ ص:۴۹۵)۔
- (۴) مسئلۃ: المرأۃ مندوبۃ إلی الغلظۃ فی المقال إذا خاطبت الأجانب لقطع الْإطماع۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۳۳۸)۔

