بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

نرس‌عورتوں‌کا‌مردوں‌کی‌دیکھ‌بھال‌کرنا

سوال:۔

نرسیں نامحرَم مردوں کی دیکھ بھال بھی کرتی ہیں، کیا ان نامحرَم مردوں کی دیکھ بھال کرنا جائز ہے جبکہ وہ ثواب کا کام کرتی ہیں؟

جواب:۔

حضراتِ فقہاء نے ایک مسئلہ لکھا ہے، اس سے آپ کو اپنے سوال کا جواب مل جائے گا۔ مسئلہ یہ ہے کہ: اگر کسی مرد کا اِنتقال ہوجائے اور وہاں کوئی مرد اس کو غسل دینے والا نہ ہو، اور صرف عورتیں ہوں، تو عورتوں کے لئے جائز نہیں کہ وہ مردہ آدمی کو غسل دیں، بلکہ ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر اس کو تیمم کرادیں۔(۱) البتہ بیوی اپنے شوہر کو غسل دے سکتی ہے۔(۲) جب مردے کو غسل دینا بھی عورتوں کے لئے جائز نہیں تو نامحرَم مردوں کی دیکھ بھال ۔۔۔جس میں اعضائے مستورہ کو مس کرنا پڑتا ہے۔۔۔ کیونکر جائز ہوگی؟ دراصل نرسنگ کا موجودہ نظام بے خدا قوموں کا رائج کردہ ہے، اسلامی شریعت کے مطابق مردوں کی تیمارداری کے لئے مرد، اور عورتوں کی تیمارداری کے لئے عورتیں ہونی چاہئیں۔

ثواب کا کام وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ثواب کا کام کہا ہو، اجنبی عورتوں کا اجنبی مردوں کی دیکھ بھال کرنا کارِ ثواب نہیں ہے۔

  1. (۱) ولو مات رجل بین النساء تیممہ ذات رحم محرم منہ أو زوجتہ أو أمتہ بغیر ثوب وغیرھا بثوب ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶۰، کتاب الصلاۃ، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز، الفصل الثانی فی الغسل، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔
  2. (۲) ویجوز للمرأۃ أن تغسل زوجھا۔ (عالمگیری ج:۱ ص:۱۶۰، الباب الحادی والعشرون فی الجنائز)۔