بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

اکیلی‌عورت‌کو‌کام‌کاج‌کے‌وقت‌سر‌ننگا‌کرنا‌جائز‌ہے

سوال:۔

یہ تو مجھے معلوم ہے کہ دوپٹہ عورت کے ستر کا حصہ ہے، لیکن کیا کام کرتے وقت یعنی ایسا کام جس میں دوپٹے کو سنبھالنا مشکل ہوتا ہے جیسے گھر دھونا، پونچھا لگانا وغیرہ، کسی کو مشکل ہو یا نہ ہو، البتہ مجھے دوپٹہ اوڑھ کر گھر دھونا بہت مشکل لگتا ہے، کیونکہ بعض اوقات دوپٹہ لٹکنا شروع ہوجاتا ہے، ہاتھ میں پانی ہے، جھاڑو ہے اور دوپٹہ نیچے لٹک رہا ہے، اس وقت شدید ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیا جس وقت گھر میں بھی کوئی نہ ہو، اور شدید گرمی بھی ہو تو کیا ایسی صورت میں دوپٹہ گلے میں ڈال کر کام نہیں کیا جاسکتا؟ یا ہر صورت میں دوپٹہ اوڑھنا ضروری ہے چاہے کچھ بھی ہو سر پر دوپٹہ اوڑھنا ضروری ہے؟

جواب:۔

اچھا تو یہی ہے کہ عورت سر ننگا نہ کرے، تاہم اگر گھر پر کوئی نامحرَم نہ ہو، تو سر ننگا کرنا جائز ہے،(۱) نامحرَم کے لئے جائز نہیں۔(۲)

  1. (۱) وفی غریب الروایۃ یرخص للمرأۃ کشف الرأس فی منزلھا وحدھا فأولٰی لھا لبس خمار رقیق یصف ماتحتہ عند محارمھا۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۴، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔
  2. (۲) وللحرۃ جمیع بدنھا حتّٰی شعرھا النازل فی الأصح ۔۔۔إلخ۔ وصح فی الخانیۃ خلافہ مع تصحیحہ لحرمۃ النظر إلیہ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۵، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔