بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

دوپٹہ‌سر‌ڈھانپنے‌کی‌بجائے‌گلے‌میں‌لٹکانا

سوال:۔

کیا عورت کو دوپٹہ سر اور جسم ڈھانپنے کے بجائے صرف گلے میں پہنے رکھنا اور سر کو نہ ڈھانپنا یا صرف اس طرح اوڑھنا کہ دونوں سینے نمایاں ہوں، یا ایسے لٹکانا کہ صرف ایک سینہ کھلا ہو اور ایک ڈھکا ہو، شرعاً جائز ہے؟

جواب:۔

جائز نہیں، بلکہ حرام اور موجبِ لعنت ہے۔ قرآنِ کریم نے اس کو ’’تبرّجِ جاہلیت‘‘ فرمایا ہے،(۱) یعنی جاہلیت کے انداز میں حسن کی نمائش کرنا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی ملعون عورتوں کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائیں گی۔(۲)

  1. (۱)ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣ وأن المقصود من الآیۃ مخالفۃ من قبلھن من المشیۃ علٰی تغنیج وتکسیر وإظھار المحاسن للرجال إلٰی غیر ذالک مما لَا یجوز شرعًا۔ (تفسیر القرطبی ج:۱۴ ص:۱۸۰)۔
  2. (۲) عن أبی ھریرۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: صنفان من أھل النار ۔۔۔ لَا یدخلنَ الجنّۃ ولَا یجدنَ ریحھا ۔۔۔إلخ۔ (صحیح مسلم ج:۲ ص:۲۰۵، باب النساء الکاسیات)۔