بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

مرد‌کا‌ننگے‌سر‌پھرنا‌انسانی‌مروّت‌و‌شرافت‌کے‌خلاف‌ہے‌اور‌عورت‌کے‌لئے‌گناہِ‌کبیرہ‌ہے

سوال:۔

میرے ذہن میں بچپن ہی سے ایک سوال ہے کہ اسلام میں ننگے سر، سرِ عام پھرنا جائز ہے؟ میں دس سال کا بچہ ہوں اور مجھے لکھنا بھی صحیح نہیں آتا، مہربانی فرماکر غلطیاں نکال دیں۔ میرے خط کا جواب ضرور دیں، شکریہ۔

جواب:۔

تمہارے خط کی غلطیاں تو ہم نے ٹھیک کرلیں، مگر تمہارا سوال اتنا اہم ہے کہ کسی طرح یقین نہیں آتا کہ یہ سوال دس سال کے بچے کا ہوسکتا ہے۔

لو! اب جواب سنو! اسلام بلند اخلاق و کردار کی تعلیم دیتا ہے اور گھٹیا اخلاق و معاشرت سے منع کرتا ہے۔ ننگے سر بازاروں اور گلیوں میں نکلنا اسلام کی نظر میں ایک ایسا عیب ہے جو اِنسانی مروّت و شرافت کے خلاف ہے، اس لئے حضراتِ فقہائے کرامؒ فرماتے ہیں کہ اسلامی عدالت ایسے شخص کی شہادت قبول نہیں کرے گی۔(۱) مسلمانوں میں ننگے سر پھرنے کا رِواج انگریزی تہذیب و معاشرت کی نقالی سے پیدا ہوا ہے، ورنہ اسلامی معاشرت میں ننگے سر پھرنے کو عیب تصوّر کیا جاتا ہے، اور یہ حکم مردوں کا ہے۔ جبکہ عورتوں کا برہنہ سر، کھلے بندوں پھرنا اور کھلے بندوں بازاروں میں نکلنا صرف عیب ہی نہیں بلکہ گناہِ کبیرہ ہے۔(۲)

  1. (۱) والمشی بسراویل فقط ومد رجلہ عند الناس وکشف رأسہٖ فی موضع یعدّ فعلہ خفۃ وسوء أدب وقلۃ مروئۃ وحیاء لأن من یکون کذالک لَا یبعد منہ ان یشھد بالزور۔ (فتح القدیر ج:۶ ص:۳۹، البحر ج:۷ ص:۹۲)۔
  2. (۲) وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لخوف الفتنۃ۔ (درمختار)۔ والمعنٰی تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔