پردہ
عورتاورپردہ
سوال:۔
کیا خواتین کے لئے ہاکی کھیلنا، کرکٹ کھیلنا، بال کٹوانا اور ننگے سر باہر جانا، کلبوں، سینماؤں یا ہوٹلوں اور دفتروں میں مردوں کے ساتھ کام کرنا، غیرمردوں سے ہاتھ ملانا اور بے حجابانہ باتیں کرنا، خواتین کا مردوں کی مجالس میں ننگے سر میلاد میں شامل ہونا، ننگے سر اور نیم برہنہ پوشاک پہن کر نعت خوانی غیرمردوں میں کرنا، اسلامی شریعت میں جائز ہے؟ کیا علمائے کرام پر واجب نہیں کہ وہ ان بدعتوں اور غیراسلامی کردار ادا کرنے والی خواتین کے برخلاف حکومت کو انسداد پر مجبور کریں؟
جواب:۔
اس سوال کے جواب سے پہلے ایک غیور مسلمان خاتون کا خط بھی پڑھ لیجئے، جو ہمارے مخدوم حضرتِ اقدس ڈاکٹر عبدالحی عارفی مدظلہٗ کو موصول ہوا، وہ لکھتی ہیں:
’’لوگوں میں یہ خیال پیدا ہوکر پختہ ہوگیا ہے کہ حکومتِ پاکستان پردے کے خلاف ہے، یہ خیال اس کوٹ کی وجہ سے ہوا ہے جو حکومت کی طرف سے حج کے موقع پر خواتین کے لئے پہننا ضروری قرار دے دیا گیا ہے، یہ ایک زبردست غلطی ہے، اگر پہچان کے لئے ضروری تھا تو نیلا برقع پہننے کو کہا جاتا۔
حج کی جو کتاب رہنمائی کے لئے حجاج کو دی جاتی ہے اس میں تصویر کے ذریعے مرد، عورت کو اِحرام کی حالت میں دِکھایا گیا ہے، اوّل تو تصویر ہی غیراسلامی فعل ہے، دُوسرے عورت کی تصویر کے نیچے ایک جملہ لکھ کر ایک طرح سے پردے کی فرضیت سے انکار ہی کردیا، وہ تکلیف دہ جملہ یہ ہے کہ: ’’اگر پردہ کرنا ہو تو منہ پر کوئی آڑ رکھیں تاکہ منہ پر کپڑا نہ لگے‘‘ یہ تو دُرست مسئلہ ہے، لیکن ’’اگر پردہ کرنا ہو‘‘ کیوں لکھا گیا؟ پردہ تو فرض ہے؟ پھر کسی کی پسند یا ناپسند کا کیا سوال؟ بلکہ پردہ پہلے فرض ہے حج بعد کو۔ کھلے چہرے ان کی تصویروں کے ذریعے اخبارات میں نمائش، ٹی وی پر نمائش، یہ سب پردے کے اَحکام کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ فلم کے پردے پر اسلام اور اسلامی شعائر کی اس قدر توہین و استہزاء ہو رہا ہے اور علمائے کرام اسلام تماشائی بنے بیٹھے ہیں، سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور بدی کے خلاف، بدی کو مٹانے کے لئے اللہ کے اَحکام سنا سناکر پیروی کروانے کا فریضہ ادا نہیں کرتے، خدا کے فضل و کرم سے پاکستان اور تمام مسلم ممالک میں علماء کی تعداد اتنی ہے کہ ملت کی اصلاح کے لئے کوئی دِقت پیش نہیں آسکتی، جب کوئی بُرائی پیدا ہو اس کو پیدا ہوتے ہی کچلنا چاہئے، جب جڑ پکڑ جاتی ہے تو مصیبت بن جاتی ہے۔ علماء ہی کا فرض ہے کہ ملت کو بُرائیوں سے بچائیں، اپنے گھروں کو علماء رائج الوقت بُرائیوں سے بچائیں، اپنی ذات کو بُرائیوں سے دُور رکھیں تاکہ اچھا اثر ہو۔
تعلیمی ادارے جہاں قوم بنتی ہے غیراسلامی لباس اور غیرزبان میں ابتدائی تعلیم کی وجہ سے قوم کے لئے سودمند ہونے کے بجائے نقصان کا باعث ہیں۔ معلّم اور معلّمات کو اسلامی عقائد اور طریقے اختیار کرنے کی سخت ضرورت ہے، طالبات کے لئے چادر ضروری قرار دی گئی، لیکن گلے میں پڑی ہے، چادر کا مقصد جب ہی پورا ہوسکتا ہے جب معمر خواتین باپردہ ہوں، بچیوں کے ننھے ننھے ذہن چادر کو بار تصوّر کرتے ہیں، جب وہ دیکھتی ہیں معلمہ اور اس کی اپنی ماں گلی بازاروں میں سر برہنہ، نیم عریاں لباس میں ہیں تو چادر کا بوجھ کچھ زیادہ ہی محسوس ہونے لگتا ہے۔ بے پردگی ذہنوں میں جڑ پکڑ چکی ہے، ضرورت ہے کہ پردے کی فرضیت واضح کی جائے، اور بڑے لفظوں میں پوسٹر چھپواکر تقسیم بھی کئے جائیں، اور مساجد، طبّی ادارے، تعلیمی ادارے، مارکیٹ جہاں خواتین ایک وقت میں زیادہ تعداد میں شریک ہوتی ہیں، شادی ہال وغیرہ وہاں پردے کے اَحکام اور پردے کی فرضیت بتائی جائے۔ بے پردگی پر وہی گناہ ہوگا جو کسی فرض کو ترک کرنے پر ہوسکتا ہے۔ اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا، ہمارے معاشرے میں ننانوے فیصد بُرائیاں بے پردگی کی وجہ سے وجود میں آئی ہیں، اور جب تک بے پردگی ہے بُرائیاں بھی رہیں گی۔
راجہ ظفرالحق صاحب مبارک ہستی ہیں، اللہ پاک ان کو مخالفتوں کے سیلاب میں ثابت قدم رکھیں، آمین! ٹی وی سے فحش اشتہار ہٹائے تو شور برپا ہوگیا، ہاکی ٹیم کا دورہ منسوخ ہونے سے ہمارے صحافی اور کالم نویس رنجیدہ ہوگئے ہیں۔
جو اخبار ہاتھ لگے، دیکھئے، جلوۂ رقص و نغمہ، حسن و جمال، رُوح کی غذا کہہ کر موسیقی کی وکالت! کوئی نام نہاد عالم ٹائی اور سوٹ کو بین الاقوامی لباس ثابت کرکے اپنی شناخت کو بھی مٹا رہے ہیں، ننھے ننھے بچے ٹائی کا وبال گلے میں ڈالے اسکول جاتے ہیں، کوئی شعبہ زندگی کا ایسا نہیں جہاں غیروں کی نقل نہ ہو۔
راجہ صاحب کو ایک قابلِ قدر ہستی کی مخالفت کا بھی سامنا ہے، اس معزّز ہستی کو اگر پردے کی فرضیت اور افادیت سمجھائی جائے تو اِن شاء اللہ مخالفت، موافقت کا رُخ اختیار کرلے گی۔ عورت سرکاری محکموں میں کوئی تعمیری کام اگر اسلام کے اَحکام کی مخالفت کرکے بھی کر رہی ہے تو وہ کام ہمارے مرد بھی انجام دے سکتے ہیں بلکہ سرکار کے سرکاری محکموں میں تقرّر مرد طبقے کے لئے تباہ کن ہے، مرد طبقہ بے کاری کی وجہ سے یا تو جرائم کا سہارا لے رہا ہے یا ناجائز طریقے اختیار کرکے غیرممالک میں ٹھوکریں کھا رہا ہے۔‘‘
بدقسمتی سے دورِ جدید میں عورتوں کی عریانی و بے حجابی کا جو سیلاب برپا ہے، وہ تمام اہلِ فکر کے لئے پریشانی کا موجب ہے، مغرب اس لعنت کا خمیازہ بھگت رہا ہے، وہاں عائلی نظام تلپٹ ہوچکا ہے، شرم و حیا اور غیرت و حمیت کا لفظ اس کی لغت سے خارج ہوچکا ہے۔ اور حدیثِ پاک میں آخری زمانے میں انسانیت کی جس آخری پستی کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ: ’’وہ چوپایوں اور گدھوں کی طرح سرِ بازار شہوت رانی کریں گے‘‘(۱) اس کے مناظر بھی وہاں سامنے آنے لگے ہیں۔ اِبلیسِ مغرب نے صنفِ نازک کو خاتونِ خانہ کے بجائے شمعِ محفل بنانے کے لئے ’’آزادیٔ نسواں‘‘ کا خوبصورت نعرہ بلند کیا۔ ناقصات العقل والدِّین کو سمجھایا گیا کہ پردہ ان کی ترقی میں حارج ہے، انہیں گھر کی چاردیواری سے نکل کر زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہئے۔ اس کے لئے تنظیمیں بنائی گئیں، تحریکیں چلائی گئیں، مضامین لکھے گئے، کتابیں لکھی گئیں، اور پردہ جو صنفِ نازک کی شرم و حیا کا نشان، اس کی عفت و آبرو کا محافظ، اور اس کی فطرت کا تقاضا تھا، اس پر ’’رجعت پسندی‘‘ کے آوازے کسے گئے، اس مکروہ ترین اِبلیسی پروپیگنڈے کا نتیجہ یہ ہوا کہ حوّا کی بیٹیاں اِبلیس کے دامِ تزویر میں آگئیں، ان کے چہرے سے نقاب نوچ لی گئی، سر سے دوپٹہ چھین لیا گیا، آنکھوں سے شرم و حیا لوٹ لی گئی، اور اسے بے حجاب و عریاں کرکے تعلیم گاہوں، دفتروں، اسمبلیوں، کلبوں، سڑکوں، بازاروں اور کھیل کے میدانوں میں گھسیٹ لیا گیا، اس مظلوم مخلوق کا سب کچھ لٹ چکا ہے، لیکن اِبلیس کا جذبۂ عریانی و شہوانی ہنوز تشنہ ہے۔
مغرب، مذہب سے آزاد تھا، اس لئے وہاں عورت کو اس کی فطرت سے بغاوت پر آمادہ کرکے مادر پدر آزادی دِلا دینا آسان تھا، لیکن مشرق میں اِبلیس کو دُہری مشکل کا سامنا تھا، ایک عورت کو اس کی فطرت سے لڑائی لڑنے پر آمادہ کرنا، اور دُوسرے تعلیماتِ نبوّت، جو مسلم معاشرے کے رگ و ریشہ میں صدیوں سے سرایت کی ہوئی تھیں، عورت اور پورے معاشرے کو ان سے بغاوت پر آمادہ کرنا۔
ہماری بدقسمتی، مسلم ممالک کی نکیل ایسے لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو ’’ایمان بالمغرب‘‘ میں اہلِ مغرب سے بھی دو قدم آگے تھے، جن کی تعلیم و تربیت اور نشوونما خالص مغربیت کے ماحول میں ہوئی تھی، جن کے نزدیک دِین و مذہب کی پابندی ایک لغو اور لایعنی چیز تھی اور جنھیں نہ خدا سے شرم تھی، نہ مخلوق سے۔ یہ لوگ مشرقی روایات سے کٹ کر مغرب کی راہ پر گامزن ہوئے، سب سے پہلے انہوں نے اپنی بہو، بیٹیوں، ماؤں، بہنوں اور بیویوں کو پردۂ عفت سے نکال کر آوارہ نظروں کے لئے وقفِ عام کیا، ان کی دُنیوی وجاہت و اقبال مندی کو دیکھ کر متوسط طبقے کی نظریں للچائیں، اور رفتہ رفتہ تعلیم، ملازمت اور ترقی کے بہانے وہ تمام اِبلیسی مناظر سامنے آنے لگے جن کا تماشا مغرب میں دیکھا جاچکا تھا۔ عریانی و بے حجابی کا ایک سیلاب ہے، جو لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہا ہے، جس میں اسلامی تہذیب و تمدن کے محلات ڈُوب رہے ہیں، انسانی عظمت و شرافت اور نسوانی عفت و حیا کے پہاڑ بہہ رہے ہیں، خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ سیلاب کہاں جاکر تھمے گا اور انسان، انسانیت کی طرف کب پلٹے گا؟ بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ جب تک خدا کا خفیہ ہاتھ قائدینِ شر کے وجود سے اس زمین کو پاک نہیں کردیتا، اس کے تھمنے کا کوئی امکان نہیں:
ﵟ رَّبِّ لَا تَذَرۡ عَلَى ٱلۡأَرۡضِ مِنَ ٱلۡكَٰفِرِينَ دَيَّارًا ٢٦ إِنَّكَ إِن تَذَرۡهُمۡ يُضِلُّواْ عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوٓاْ إِلَّا فَاجِرٗا كَفَّارٗا ٢٧ ﵞ نوح ٢٦ و٢٧
جہاں تک اسلامی تعلیمات کا تعلق ہے، عورت کا وجود فطرۃً سراپا ستر ہے اور پردہ اس کی فطرت کی آواز ہے۔
حدیث میں ہے:
’’الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ، فَاِذَا خَرَجَتِ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۶۹ بروایت ترمذی)
ترجمہ:۔ ’’عورت سراپا ستر ہے، پس جب وہ نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک جھانک کرتا ہے۔‘‘
اِمام ابونعیم اصفہانی ؒنے حلیۃ الاولیاء میں یہ حدیث نقل کی ہے:
’’عَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّى اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: مَا خَيْرٌ لِّلنِّسَاءِ؟ - فَلَمْ نَدْرِ مَا نَقُولُ - فَجَاءَ عَلِيٌّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ إِلَى فَاطِمَةَ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا فَاَخْبَرَہَا بِذٰلِکَ، فَقَالَتْ: فَهَلَّا قُلْتَ لَہُ خَيْرٌ لَّهُنَّ اَنْ لَّا يَرَيْنَ الرِّجَالَ وَلَا يَرَوْنَهُنَّ۔ فَرَجَعَ فَاَخْبَرَہُ بِذٰلِکَ، فَقَالَ لَہُ: مَنْ عَلَّمَكَ هٰذَا؟ قَالَ: فَاطِمَةُ! قَالَ: اِنَّہَا بَضْعَةٌ مِّنِّی۔
سَعِیْدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّہُ قَالَ لِفَاطِمَۃَ: مَا خَیْرٌ لِّلنِّسَاءِ؟ قَالَتْ: لَا یَرَیْنَ الرِّجَالَ وَلَا یَرَوْنَہُنَّ، فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: اِنَّمَا فَاطِمَۃُ بَضْعَۃٌ مِنِّی۔‘‘ (حلیۃ الاولیاء ج:۲ ص:۴۰، ۴۱)
ترجمہ:۔ ’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سے فرمایا: بتاؤ! عورت کے لئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ ہمیں اس سوال کا جواب نہ سوجھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ وہاں سے اُٹھ کر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے، ان سے اسی سوال کا ذکر کیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: آپ لوگوں نے یہ جواب کیوں نہ دیا کہ عورتوں کے لئے سب سے بہتر چیز یہ ہے کہ وہ اجنبی مردوں کو نہ دیکھیں اور نہ ان کو کوئی دیکھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے واپس آکر یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جواب تمہیں کس نے بتایا؟ عرض کیا: فاطمہؓ نے! فرمایا: فاطمہ آخر میرے جگر کا ٹکڑا ہے ناں۔
سعید بن مسیبؒ، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ: عورتوں کے لئے سب سے بہتر کون سی چیز ہے؟ فرمانے لگیں: یہ کہ وہ مردوں کو نہ دیکھیں اور نہ مرد ان کو دیکھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ جواب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا تو فرمایا: واقعی فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔‘‘
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت اِمام ہیثمیؒ نے ’’مجمع الزوائد‘‘ (ج:۹ ص:۲۰۳) میں بھی مسندِ بزار کے حوالے سے نقل کی ہے۔(۲)
موجودہ دور کی عریانی اسلام کی نظر میں جاہلیت کا تبرّج ہے، جس سے قرآنِ کریم نے منع فرمایا ہے۔(۳) اور چونکہ عریانی قلب ونظر کی گندگی کا سبب بنتی ہے، اس لئے ان تمام عورتوں کے لئے بھی جو بے حجابانہ نکلتی ہیں اور ان مردوں کے لئے بھی جن کی ناپاک نظریں ان کا تعاقب کرتی ہیں، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
’’لَعَنَ اللہُ النَّاظِرَ وَالْمَنْظُوْرَ اِلَیْہِ۔‘‘(۴)
ترجمہ:۔ ’’اللہ تعالیٰ کی لعنت دیکھنے والے پر بھی اور جس کی طرف دیکھا جائے اس پر بھی۔‘‘
عورتوں کا بغیر صحیح ضرورت کے گھر سے نکلنا،(۵) شرفِ نسوانیت کے منافی ہے، اور اگر انہیں گھر سے باہر قدم رکھنے کی ضرورت پیش ہی آئے تو حکم ہے کہ ان کا پورا بدن مستور ہو۔(۶)
- (۱) لَا تقوم الساعۃ حتّٰی یتسافد الناس تسافد البھائم فی الطرق۔ (طبرانی عن ابن عمر، کنز العمال ج:۱۴ ص:۲۴۶)۔ أنہ تقل الرجال، وتکثر النساء، حتّٰی یکون لخمسین امرأۃ القیم الواحد یلذن بہ، وأنھم یتسافدون فی الطرقات کما تتسافد البھائم۔(النھایۃ فی الفتن والملاحم ج:۱ ص:۲۳۹)۔
- (۲) وعن علیٍّ أنہ کان عند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال: أی شیء خیر للنساء؟ قالت: لَا یراھن الرجال، فذکرتُ ذالک للنبی صلی اللہ علیہ وسلم، فقال: إنما فاطمۃ بضعۃ مِنِّی‘‘ رضی اللہ عنھا۔ رواہ البزار۔ (مجمع الزوائد للھیثمی ج:۹ ص:۲۳۸، ۲۳۹، باب مناقب فاطمۃ، رقم الحدیث:۱۵۲۰۰، طبع بیروت)۔
- (۳) ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣
- (۴) مشکٰوۃ ص:۲۷۰، باب النظر إلی المخطوبۃ، الفصل الثالث۔
- (۵) عن عائشۃ قالت: خرجت سودۃ بعد ما ضُرِبَ الحِجَابُ ۔۔۔ فقال: انہ قد اُذن لکنّ أن تخرجن لحاجتکن۔ (بخاری ج:۲ ص:۷۰۷، بابٌ لَا تَدخلوا بیوت النبی)۔
- (۶) لقولہ تعالٰی: ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣ ولقولہ تعالٰی: ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩

