پردہ
کسیکاعملحجتنہیں،شرعیحکمحجتہے
سوال:۔
اسلام میں مسلمانوں کے لئے نامحرَم سے بات تو درکنار ایک سر کا بال تک نہیں دیکھنا چاہئے، لیکن ’’جنگ‘‘ اخبار میں اتوار ۳۰؍جولائی ۱۹۹۵ء کی اشاعت میں ایک تصویر چھپی ہے جس میں دِکھایا گیا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے سابق اِمام السید اسعد بیوض تمیمی سے لاہور میں ایک خاتون مصافحہ کر رہی ہے۔ اس تصویر کو لاکھوں مسلمانوں نے دیکھا ہوگا اور ہم جیسے کچی عمر کے بچے تو یہی سمجھیں گے کہ عورت سے یعنی نامحرَم عورت سے ہاتھ ملانا گناہ نہیں ہے، جبکہ یہ سابق اِمام السید اسعد بیوض تمیمی صاحب نامحرَم سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔ آپ اس بارے میں ذرا واضح کردیں کہ یہ اِمام صاحب صحیح کر رہے ہیں جبکہ یہ سیّد بھی ہیں؟ بہت نوازش ہوگی آپ کی۔
جواب:۔
آج کل کی جدید عربی میں ’’السید‘‘، ’’جناب‘‘ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو عرب ممالک کے دورے پر گئے تھے، بہت سے لوگوں کو یاد ہوگا کہ عرب اخبارات ان کی خبریں ’’السید نہرو‘‘ کے نام سے چھاپتے تھے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے نامحرَم کے ساتھ ہاتھ ملانا حرام ہے،(۱) اور کسی نامحرَم کے بدن سے مس کرنا ایسا ہے جیسے خنزیر کے خون میں ہاتھوں کو ڈبودیا جائے۔ مسجدِ اقصیٰ کے سابق اِمام کا فعل خلافِ شرع ہے، اور خلافِ شرع کام خواہ کوئی بھی کرے اس کو جائز نہیں کہا جائے گا۔
- (۱) ولَا یحل لہ أن یمس وجھھا ولَا کفھا وإن کان یأمن الشھوۃ وھٰذا إذا کانت شابۃ تشتھی ۔۔۔إلخ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۹ کتاب الکراھیۃ)۔ أیضًا: ولَا تمس شیئًا منہ إذا کان أحدھما شابًا فی حد الشھوۃ وإن أمنا علٰی أنفسھما الشھوۃ۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۲۷، کتاب الکراھیۃ، الباب الثامن فیما یحل للرجل النظر إلیہ)۔

