بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

چہرہ‌چھپانا‌پردہ‌ہے،‌تو‌حج‌پر‌کیوں‌نہیں‌کیا‌جاتا؟

سوال:۔

چہرہ چھپانا پردہ ہے تو پھر حج کے موقع پر پردہ کیوں نہیں؟ اسی طرح ایک حدیث کا مفہوم، کم و بیش مجھے اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، یہ ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئے اور کہا: میں شادی کر رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ اس نے کہا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا: جاکر اسے دیکھ کر آؤ۔ اس طرح اس حدیث سے بھی چہرہ کھلا رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ذرا اس کی بھی وضاحت فرمادیں تاکہ عقلی تشنگی بھی دُور ہوسکے۔

جواب:۔

اِحرام میں عورت کو چہرہ ڈھکنا جائز نہیں، پردے کا پھر بھی حکم ہے کہ جہاں تک ممکن ہو، نامحرموں کی نظر چہرے پر نہ پڑنے دے۔(۱) جس عورت سے نکاح کرنا ہو، اس کو ایک نظر دیکھ لینے کی اجازت ہے،(۲) لیکن ان دونوں باتوں سے یہ نتیجہ نکال لینا غلط ہے کہ اسلام میں چہرے کا پردہ ہی نہیں۔

  1. (۱) (وستر الوجہ) واطلقہ فشمل المرأۃ لما فی البحر عن غایۃ البیان من انھا لَا تغطی وجھھا إجماعًا اھـ۔ أی وإنما تستر وجھھا عن الأجانب بإسدال شیء متجاف لَا یمس الوجہ۔ (شامی ج:۲ ص:۴۸۸، مطلب فیما یحرم بالْإحرام وما لَا یحرم)۔
  2. (۲) ولَا یجوز النظر إلیہ بشھوۃ أی إلّا لحاجۃ ۔۔۔ وکخاطب یرید نکاحھا فینظر ولو عن شھوۃٍ بنیۃ السنۃ لَا قضاء الشھوۃ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۷، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ)۔