پردہ
کیاپردہضروریہےیانظریںنیچیرکھناہیکافیہے؟
سوال:۔
پردہ سے متعلق ’’چہرہ کھلا رکھ لینا‘‘ اور نظریں نیچی رکھ لینا ہی شرعی پردہ ہے یا ظاہراً چہرہ چھپانا بھی ضروری ہے؟ کسی ایک صوبے کے سابق ڈی آئی جی ایک رات بات چیت کے دوران مصر تھے کہ سورۂ نور میں صرف نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے، پردے کا نہیں، کیونکہ اس میں تو مردوں سے بھی نگاہ نیچی رکھنے کا کہا ہے پھر مرد کو بھی برقع پہننا چاہئے۔
جواب:۔
شرعاً چہرے کا پردہ لازم ہے۔(۱) یہ غلط ہے کہ سورۂ نور میں صرف نظریں نیچی رکھنے کا حکم ہے، یہ حکم تو مردوں اور عورتوں کو یکساں دیا گیا ہے، عورتوں کو مزید برآں ایک حکم یہ دیا گیا کہ سوائے ان حصوں کے جن کا اظہار ناگزیر ہے اپنی زینت کا اظہار نہ کریں۔(۲) احادیث میں آتا ہے کہ اس آیت کے نزول کے بعد صحابی عورتیں پورا چہرہ چھپاکر صرف ایک آنکھ کھلی رکھ کر نکلتی تھیں۔(۳) علاوہ ازیں سورۂ احزاب میں حکم دیا گیا ہے کہ اپنی چادریں اپنے گریبانوں پر لٹکالیا کریں یعنی گھونگھٹ نکالیں، چہروں اور سینوں کو چھپائیں۔(۴)
- (۱) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩
- (۲) ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنۡهَاۖ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ﵞ سورة النور ٣١
- (۳) قال ابن عباس وأبوعبیدۃ أمر نساء المؤمنین أن یغطین رؤسھن ووجوھھن بالجلابیب إلّا عینا واحدًا لیعلم انھن الحرائر ومن للتبعیض لأن المرأۃ ترخی بعض جلبابھا۔ (تفسیر المظھری ج:۷ ص:۴۱۹، زیر آیت: یٰٓـأیھا النبی قل لأزواجک وبنٰتک ونساء المؤمنین)۔ ان عائشۃ کانت تقول: لما نزلت ھٰذہ الآیۃ:ﵟ وَلۡيَضۡرِبۡنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ﵞ أخذن اُزرھن فشققنھا من قبل الحواش فاختمرن بھا۔ (بخاری ج:۲ ص:۷۰۰، بابٌ قولہ ﵟ وَلۡيَضۡرِبۡنَ ﵞ)۔
- (۴)ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩

