پردہ
عورتکومردکےشانہبشانہکامکرنا
سوال:۔
آج کے دور میں جس طرح عورت، مرد کے شانہ بشانہ چل رہی ہے، وہ ہر کام جو اسلامی نقطۂ نظر سے صحیح تصوّر نہیں کیا جاتا، اس میں بھی عورت نے ہاتھ ڈالا ہوا ہے، پوچھنا یہ چاہتی ہوں کہ کیا یہ عورت کا شانہ بشانہ کام، اسلام میں جائز ہے؟
جواب:۔
اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کا دائرۂ کار الگ الگ بنایا ہے، عورت کے کام کا میدان اس کا گھر ہے، اور مرد کا میدانِ عمل گھر سے باہر ہے۔ جو کام مرد کرسکتا ہے، عورت نہیں کرسکتی، اور جو عورت کرسکتی ہے، مرد نہیں کرسکتا۔ دونوں کو اپنے اپنے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہئے۔(۱) جو لوگ مرد کا بوجھ عورت کے نحیف کندھوں پر ڈالتے ہیں وہ عورت پر ظلم کرتے ہیں۔
- (۱) حکم النبی صلی اللہ علیہ وسلم بین علی بن أبی طالب وبین زوجتہ فاطمۃ حین اشتکیا إلیہ الخدمۃ فحکم علٰی فاطمۃ بالخدمۃ الباطنۃ خدمۃ البیت، وحکم علٰی علیّ بالخدمۃ الظاھرۃ۔ (زاد المعاد ج:۲ ص:۲۳۵، طبع مؤسسۃ الرسالۃ)۔

