پردہ
عورتکوپردےمیںکنکناعضاءکاچھپاناضروریہے؟
سوال:۔
میرے شوہر کا کہنا ہے کہ عورت نام ہی پردہ کا ہے، لہٰذا اس کو ہمہ وقت پردہ کرنا چاہئے، ورنہ معاشرے میں خرابیاں پیدا ہوں گی، حتیٰ کہ وہ باپ بھائی سے بھی پردہ کرے کیونکہ نفس تو سب کے ساتھ ہے، لیکن حرج کی وجہ سے اسلام نے اس کو واجب قرار نہیں دیا، لیکن کرنا چاہئے۔
دوم:۔ یہ کہ عورت بازار جائے تو اسلام اس کو مردوں پر فوقیت نہیں دیتا اور ’’لیڈیز فرسٹ‘‘ انگریزی کا مقولہ ہے، مثلاً: چند مردوں کو روٹی لینا ہے، قطار میں کھڑے ہیں، ایک عورت آئی اس کو پہلے روٹی مل گئی تو شوہر کے بقول یہ ان تینوں کے حقوق غصب کرنا ہے۔ لیکن میرا موقف یہ ہے کہ مقولہ اگرچہ انگریز کا ہے لیکن اس میں عورت کا احترام ہے، ایسا ہونا چاہئے اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
سوم:۔ یہ کہ عورت اپنے باپ اور سگے بھائی سے بھی زیادہ دیر بات نہ کرے اور نہ مذاق کرے، بس بقدرِ ضرورت سلام دُعا اور خیریت دریافت کرسکتی ہے۔ جبکہ میرا خیال یہ ہے کہ ان کی یہ بات نامناسب ہے، پردے سے انکار نہیں، لیکن ایک حد تک۔
چہارم:۔ عورت کا بازار جانا حرام ہے، جبکہ میں نے سنا ہے کہ ’’عورت کا وہ سفر جو شرعی سفر ہو وہ محرَم کے بغیر کرنا حرام ہے‘‘ تو کیا عورت بقدرِ ضرورت کپڑا وغیرہ خریدنے کے لئے بازار نہیں جاسکتی، جبکہ مردوں اور عورتوں کی پسند میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اب عورت پردے کے ساتھ بازار جائے تو کیا حرج ہے، منہ کا چھپانا واجب نہیں، مستحب ہے۔
پنجم:۔ کیا عورت کا پردہ جتنا اجنبی غیرمحرَم سے ضروری ہے اتنا ہی پردہ رشتہ دار نامحرَم (مثلاً چچازاد، ماموں زاد وغیرہ) سے بھی ضروری ہے؟ کیا اس میں کوئی فرق ہے؟ حالانکہ ان سے پردے میں کافی مشکل ہوتی ہے۔
جواب:۔
پردے کے مسئلے میں آپ اور آپ کے شوہر دونوں راہِ اِعتدال سے ہٹ کر اِفراط و تفریط کا شکار ہیں۔
۱:۔ عورت کی شرم و حیا کا تقاضا تو یہی ہے کہ وہ کسی وقت بھی کھلے سر نہ رہے، لیکن باپ، بھائی، بیٹا، بھتیجا وغیرہ جتنے محرَم ہیں، ان کے سامنے سر، گردن، بازو اور گھٹنے سے نیچے کا حصہ کھولنا شرعاً جائز ہے۔(۱) اور اللہ تعالیٰ نے جس چیز کی اِجازت دی ہو اس پر ناگواری کا اظہار شوہر کے لئے حرام اور ناجائز ہے۔ البتہ اگر کوئی محرَم ایسا بے حیا ہو کہ اس کو عزّت و ناموس کی پروا نہ ہو، وہ نامحرَم کے حکم میں ہے اور اس سے پردہ کرنا ہی چاہئے۔(۲)
۲:۔ عورت یا ماں ہے، یا بیٹی ہے، یا بہن ہے، یا بیوی ہے، اور یہ چاروں رشتے نہایت مقدس و محترم ہیں۔ اس لئے اسلام عورت کی بے حرمتی کی تلقین ہرگز نہیں کرتا، بلکہ اس کی عزّت و احترام کی تلقین کرتا ہے۔ معلوم ہوگا کہ حاتم طائی کی لڑکی جب قیدیوں میں برہنہ سر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائی گئی، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی ردائے مبارک اوڑھنے کے لئے مرحمت فرمائی۔ اسی طرح اگر عورت کی ضرورت کو مردوں سے پہلے نمٹادیا جائے تو یہ اس کے ضعف و نسوانیت کی رعایت ہے، اس کو انگریزی مقولہ ’’لیڈیز فرسٹ‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ معلوم ہوگا کہ جہاد میں عورتوں اور بچوں کے قتل سے ممانعت فرمائی گئی ہے۔(۳) البتہ ’’لیڈیز فرسٹ‘‘ کے نظریے کے مطابق انگریزی معاشرے میں عورتوں کو جو ہر چیز میں مقدم کیا جاتا ہے اسلام اس کا قائل نہیں،(۴) چنانچہ نماز میں عورتوں کی صفیں مردوں سے پیچھے رکھی گئی ہیں،(۵) اس لئے ’’لیڈیز فرسٹ‘‘ کا نظریہ بھی غلط ہے۔ اور آپ کے شوہر کا یہ موقف بھی غلط ہے کہ عورت کا احترام نہ کیا جائے اور اس کے ضعف و نسوانیت کی رعایت کرتے ہوئے اس کو پہلے فارغ نہ کیا جائے۔
۳:۔ جن محارِم سے پردہ نہیں، ان سے بلاتکلف گفتگو کی اجازت ہے۔ آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ: ’’ان سے زیادہ بات نہ کی جائے‘‘ صحیح نہیں، بلکہ اِفراط ہے، البتہ ناروا مذاق کرنے کی اپنے محارِم کے ساتھ بھی اجازت نہیں۔(۶)
۴:۔ عورت کا بغیر ضرورت کے بازاروں میں جانا جائز نہیں،(۷) اور غیرمردوں کے سامنے چہرہ کھولنا بھی جائز نہیں، اس مسئلے میں آپ کی بات غلط ہے اور یہ تفریط ہے، عورت کو اگر بازار جانے کی ضرورت ہو تو گھر سے نکلنے کے بعد گھر آنے تک پردے کی پابندی لازم ہے، جس میں چہرے کا ڈھکنا بھی لازم ہے۔(۸)
۵:۔ اجنبی نامحرموں سے چاردیواری کا پردہ ہے، اور جو نامحرَم رشتہ دار ہوں اور عورت ان کے سامنے جانے پر مجبور ہو ان سے چادر کا پردہ لازم ہے۔ اس کی تفصیل حضرت تھانویؒ کے رسالہ ’’تعلیم الطالب‘‘ سے نقل کرتا ہوں، اور وہ یہ ہے:
’’جو رشتہ دار شرعاً محرَم نہیں، مثلاً: خالہ زاد، ماموںزاد، پھوپھی زاد بھائی یا بہنوئی، یا دیور وغیرہ، جوان عورت کو ان کے رُوبرو آنا اور بے تکلف باتیں کرنا ہرگز نہ چاہئے۔ جو مکان کی تنگی یا ہر وقت کی آمد و رفت کی وجہ سے گہرا پردہ نہ ہوسکے تو سر سے پاؤں تک تمام بدن کسی میلی چادر سے ڈھانک کر شرم و لحاظ سے بہ ضرورت رُوبرو آجائے، اور کلائی، بازو اور سر کے بال اورپنڈلی ان سب کا ظاہر کرنا حرام ہے۔ اسی طرح ان لوگوں کے رُوبرو عطر لگاکر عورت کو آنا جائز نہیں اور نہ بجتا ہوا زیور پہنے۔‘‘ (تعلیم الطالب ص:۵)
قلت: یعنی اُذن لٰـکن ان تخرجن متجلببات ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۳۸۴)۔
- (۱) (ومن محرمہٖ) ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدًا بنسب أو سبب ولو بزنا (إلی الرأس والوجہ والصدر والساق والعضد إن أمن الشھوتہ) ۔۔۔ وإلّا لَا، لَا إلی الظھر والبطن والفخذ وأصلہ قولہ تعالٰی:ﵟ وَلَا يُبۡدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ ﵞسورة النور ٣١ الآية، وتلک المذکورات مواضع الزینۃ بخلاف الظھر ونحوہ ۔۔۔إلخ۔ (درمختار ج:۶ ص:۳۶۷ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی النظر واللمس)۔
- (۲) وإن لم یأمن ذالک أو شک فلا یحل لہ النظر والمس۔ (الدر المختار مع الرد ج:۶ ص:۳۶۷)۔
- (۳) عن ابن عمر ان النبی صلی اللہ علیہ وسلم رأی إمرأۃ مقتولۃً فی بعض الطریق فنھٰی عن قتل النساء والصبیان۔ (ابن ماجۃ ص:۲۰۳، أبواب الجھاد، باب الغارت والبیات وقتل النساء والصبیان)۔
- (۴) ﵟ ٱلرِّجَالُ قَوَّٰمُونَ عَلَى ٱلنِّسَآءِ ﵞ سورة النساء ٣٤۔
- (۵) ویصف الرجال ثم الصبیان ثم النساء لقولہٖ علیہ السلام لیلینی منکم اُولوا الأحلام والنُّھٰی۔ (ھدایۃ ج:۱ ص:۱۲۴)۔
- (۶) وعن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لیس المؤمن بالطّعّان ولَا باللّعّان ولَا الفاحش ولَا البذی۔ رواہ الترمذی۔ (مشکٰوۃ ص:۴۱۳، باب حفظ اللسان، الفصل الثانی)۔
- (۷) ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣
- (۸) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞ سورة الأحزاب ٥٩

