پردہ
باریکلباسپہنکربازارجانےوالیخواتینکیذمہداریکسپرہے؟
سوال:۔
آج کل خواتین ’’لان‘‘ کے لباس وہ بھی بغیر شمیز کے پہن کر سڑکوں، بازاروں، دفاتر اور اسکولوں میں آجارہی ہیں، جس سے اسلامی اور اَخلاقی قدریں بُری طرح پامال ہو رہی ہیں۔ اس طرح کے لباس اور بے پردگی سے متعلق شریعت کی رُو سے اس کا تدارک، روک ٹوک کے لئے ان خواتین کے شوہر حضرات، ماںباپ اور دیگر سرپرستوں پر کیا ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں؟ اور اس کے متعلق جوابدہی کن کن سے ہوگی؟ اور کس طرح ہوگی؟
جواب:۔
حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے کہ اے عورتوں کی جماعت! تم صدقہ کرو، کیونکہ میں نے تمہاری اکثریت کو دوزخ میں دیکھا ہے۔(۱) جو عورتیں باریک یا بھڑکیلا لباس پہن کر، یا برہنہ سر، یا کھلے منہ مردوں کے سامنے جاتی ہیں، ان کو قبر میں اتنا سخت عذاب ہوگا کہ اگر ہمیں اس عذاب کا پتا چل جائے تو ہم قبروں میں مردے دفن کرنا چھوڑ دیں۔ میں اپنی بہنوں سے اِخلاص کے ساتھ کہتا ہوں کہ اپنی قبر اور آخرت کی فکر کریں اور فضول نمائش سے پرہیز کریں۔
- (۱) عن أبی سعید الخدری قال: خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: فی أضحٰی أو فطر إلی المصلّٰی ثم انصرف فوعظ الناس وأمرھم بالصدقۃ، فقال: یا أیھا الناس! تصدقوا۔ فمر علی النساء، فقال: یا معشر النساء! تصدقن فإنہ أریتکنّ أکثر أھل النار ۔۔۔إلخ۔ (بخاری ج:۱ ص:۱۹۷، باب الزکاۃ علی الأقارب)۔

