بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بے‌پردہ‌گھومنے‌والی‌عورتوں‌پر‌نظر‌پڑنے‌کا‌گناہ‌کس‌پر‌ہوگا؟

سوال:۔

آج کل جو مسلمان خواتین بغیر پردے کے بازار وغیرہ میں گھومتی رہتی ہیں اور ان پر ہماری یعنی غیرمحرَم کی نگاہ پڑتی ہے، اب آپ یہ بتائیں کہ اس کا گناہ کن کے سر پر ہوگا؟ کیونکہ آج کل نیچے نگاہ کرکے چلنا اپنی موت کو دعوت دینا ہوتا ہے، یہ ٹھیک ہے کہ موت برحق ہے لیکن اِحتیاط بھی ضروری ہے۔

جواب:۔

جو خواتین بن سنوَر کر بے پردہ بازاروں میں گھومتی پھرتی ہیں، وہ اپنے اس فعل کی وجہ سے ۔۔۔جس کو قرآنِ کریم نے ’’تبرّجِ جاہلیت‘‘ فرمایا ہے۔۔۔ گنہگار ہیں۔(۱) اور جو مرد ان کو قصداً گھورتے ہیں، وہ اپنے فعل کی وجہ سے گنہگار ہیں۔(۲) اگر کسی نامحرَم پر اَچانک آدمی کی نظر پڑجائے اور فوراً اسے ہٹالے تو گنہگار نہیں ہوگا۔ (۳)

رہا یہ کہ نظریں نیچی کرکے چلنا مشکل ہوگا، تو یہ بات صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے آج بھی ایسے ہیں جو نامحرَموں کو نہیں تکتے، بلکہ اپنی نظر کی حفاظت کرتے ہیں۔ اس کے لئے اتنی نظر نیچی کرنا ضروری نہیں کہ راستے کی چیزیں ہی نظر نہ آئیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ بے پردہ عورتوں کی طرف نظروں کو آوارہ نہ چھوڑا جائے۔

  1. (۱) ﵟ وَقَرۡنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجۡنَ تَبَرُّجَ ٱلۡجَٰهِلِيَّةِ ٱلۡأُولَىٰ ﵞ سورة الأحزاب ٣٣۔
  2. (۲) عن الحسن مرسلًا قال: بلغنی أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: لعن اللہ الناظر والمنظور إلیہ۔ رواہ البیھقی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۷۰)۔
  3. (۳) عن بریدۃ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعَلیٍّ: یا علیّ! لَا تتبع النظرۃ النظرۃ فإن لک الأولٰی ولیست لک الآخرۃ۔ رواہ أحمد والترمذی وأبوداوٗد والدارمی۔ (مشکٰوۃ ص:۲۶۹، باب النظر إلی المخطوبۃ، کتاب النکاح)۔