بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

بغیر‌پردہ‌عورتوں‌کا‌سرِ‌عام‌گھومنا

سوال:۔

بغیر پردے کے مسلمان عورتوں کا سرِعام گھومنا کہاں تک جائز ہے؟

جواب:۔

آج کل گلی کوچوں میں، بازاروں میں، کالجوں میں اور دفتروں میں بے پردگی کا جو طوفان برپا ہے، اور یہود و نصاریٰ کی تقلید میں ہماری بہو بیٹیاں جس طرح بن ٹھن کر بے حجابانہ گھوم پھر رہی ہیں، قرآنِ کریم نے اس کو ’’جاہلیت کا تبرج‘‘ فرمایا ہے، اور یہ انسانی تہذیب، شرافت اور عزّت کے منہ پر زناٹے کا طمانچہ ہے۔ ترمذی، ابوداؤد، ابنِ ماجہ، مستدرک میں بہ سندِ صحیح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مروی ہے کہ:

’’عَنْ اَبِی الْمَلِیْحِ قَالَ: قَدِمَ عَلٰی عَائِشَۃَ نِسْوَۃٌ مِّنْ اَھْلِ حِمْصَ فَقَالَتْ: مَنْ اَیْنَ اَنْتُنَّ؟ ۔۔ ۔ قَالَتْ: فَاِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ: لَا تَخْلَعُ امْرَاَۃٌ ثِیَابَھَا فِیْ غَیْرِ بَیْتِ زَوْجِھَا اِلَّا ھَتَکَتِ السِّتْرَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ رَبِّھَا۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۸۳، واللفظ لہٗ، ترمذی ص:۱۰۲)(۱)

ترجمہ:۔ ’’جس عورت نے اپنے گھر کے سوا دُوسری کسی جگہ کپڑے اُتارے اس نے اپنے درمیان اور اللہ کے درمیان جو پردہ حائل تھا، اسے چاک کردیا۔‘‘

عورت کے سر کا ایک بال بھی ستر ہے،(۲) اور نامحرَموں کے سامنے ستر کھولنا شرعاً حرام اور طبعاً بے غیرتی ہے۔

  1. (۱) ترمذی ج:۲ ص:۱۰۸، أبواب الآداب، باب ما جاء فی دخول الحمام، مشکٰوۃ ص:۳۸۳، باب الترجل۔
  2. (۲) وللحرۃ جمیع بدنھا حتّٰی شعرھا النازل فی الأصح ۔۔۔إلخ۔ قولہ النازل أی عن الرأس بأن جاوز الاُذن وقید بہ إذ لَا خلاف فیما علی الرأس قولہ فی الأصح صححہ فی الھدایۃ والمحیط والکافی وغیرھا وصح فی الخانیۃ خلافہ مع تصحیحہ لحرمۃ النظر إلیہ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۵ مطلب ستر العورۃ)۔ أیضًا: وکل عضو لَا یجوز النظر إلیہ قبل الْإنفصال لَا یجوز بعدہ ولو بعد الموت کشعر عانۃ وشعر رأسھا ۔۔۔إلخ۔ (الدر المختار مع الرد ج:۶ ص:۳۷۱، فصل فی النظر والمس)۔