بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پردہ

پردے‌کا‌صحیح‌مفہوم

سوال:۔

میں شرعی پردہ کرتی ہوں، کیونکہ دِینی مدرسہ کی طالبہ ہوں، اور مجھے پریشانی جب ہوتی ہے جب میں کسی تقریب وغیرہ میں مجبوراً جاتی ہوں تو اپنا برقع نہیں اُتارتی۔ جس کی وجہ سے لوگ مجھے برقع اُتارنے پر مجبور کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ: ’’پردے کا ذکر تو قرآن میں نہیں آیا، بس اوڑھنی کا ذکر آیا ہے۔‘‘ حالانکہ انہوں نے پورا مفہوم اور اس کی تفسیر وغیرہ نہیں پڑھی ہے، بس صرف یہ کہتے ہیں کہ: ’’جب اسلام نے چادر کا ذکر کیا ہے تو اتنا پردہ کیوں کرتی ہو؟‘‘ اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ: ’’اسلام نے اتنی سختی نہیں رکھی، جتنی آپ کرتی ہیں۔‘‘ وہ کہتے ہیں کہ: ’’چہرہ، ہاتھ اور پاؤں وغیرہ کھلے رہیں‘‘ حالانکہ میں کہتی ہوں ان سے کہ اس کا ذکر تو صرف نماز میں آیا ہے پردے میں نہیں۔ اور آج کل اس فتنے کے دور میں تو عورت پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ مکمل پردہ کرے بلکہ اپنا چہرہ، ہاتھ وغیرہ چھپائے۔ پردے کے متعلق آپ مجھے ذرا تفصیل سے بتادیجئے تاکہ ان لوگوں کے علم میں یہ بات آجائے کہ ’’شرعی پردہ‘‘ کہتے کسے ہیں؟ اور کتنا کرنا چاہئے؟

سوال:۔

آپ نے کیا ایسا مسئلہ بھی اخبار میں دیا تھا کہ اگر لڑکی پردہ کرتی ہے اپنے سسرال میں اور وہاں پردے کا ماحول نہیں ہے، اپنے دیوروں اور دُوسرے رشتہ داروں سے تو کیا آپ نے یہ جواب میں لکھا تھا کہ پردہ اتنا سخت بھی نہیں ہے، اگر وہ پردہ کرتی ہے تو چادر کا گھونگھٹ گراکر اپنا کام کرسکتی ہے۔ میں یہ نہیں سمجھتی کہ چہرہ چھپانے سے اس کا وجود چھپ جائے، میں تو یہ سمجھتی ہوں کہ جب لڑکی پردہ کرتی ہے تو گویا وہ اپنے نامحرموں سے اوجھل ہوجاتی ہے، جیسا کہ مرنے کے بعد اس کا وجود نہیں ہوتا دُنیا میں۔ آپ کا یہ مسئلہ میری نظروں سے نہیں گزرا، آپ سے گزارش ہے کہ تفصیل سے ذرا بتادیجئے تاکہ ان لوگوں کے علم میں بھی یہ بات باآسانی آجائے کہ پردے کے متعلق کتنا سخت حکم ہے؟

سوال:۔

پردے کے بارے میں لوگوں کی آراء مختلف ہیں، کچھ کہتے ہیں کہ منہ کا پردہ ہوتا ہے، اور کچھ کہتے ہیں کہ جسم اور منہ دونوں کا ہوتا ہے، سروِس کرنے والی خواتین کا پردہ کس طرح کا ہونا چاہئے؟ بعض خواتین اسکارف پہنتی ہیں، اور کچھ چادر چہرے پر اس طرح لپیٹتی ہیں جس طرح ہم نماز پڑھتے وقت کرتے ہیں، کیا یہ صحیح ہے؟ اس کے علاوہ یہ بھی لکھیں کہ پردہ کس کس سے ہے؟

جواب:۔

آپ کے خیالات بہت صحیح ہیں، عورت کو چہرے کا پردہ لازم ہے،(۱) کیونکہ گندی اور بیمار نظریں اسی پر پڑتی ہیں۔ چہرہ، ہاتھ اور پاؤں عورت کا ستر نہیں، یعنی نماز میں ان اعضاء کا چھپانا ضروری نہیں، لیکن گندی نظروں سے ان اعضاء کا حتی الوسع چھپانا ضروری ہے۔(۲)

جواب:۔

میں نے لکھا تھا کہ ایک ایسا مکان جہاں عورت کے لئے نامحرموں سے چاردیواری کا پردہ ممکن نہ ہو، وہاں یہ کرے کہ پورا بدن ڈھک کر اور چہرے پر گھونگھٹ کرکے شرم و حیاء کے ساتھ نامحرموں کے سامنے آجائے (جبکہ اس کے لئے جانا ناگزیر ہو)۔(۳)

جواب:۔

یہاں دو مسئلے ہیں: ایک یہ کہ کتنے حصے کا پردہ ہے؟ اور دُوسرے یہ کہ کن لوگوں سے پردہ ہے؟

پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم میں اِرشاد فرمایا ہے کہ اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں، اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ جب وہ گھروں سے باہر نکلیں تو اپنی بڑی چادر کا پلہ چہرے اور سینے پر ڈال لیا کریں۔(۴) احادیث میں آتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو مسلمان عورتیں اس طرح نکلتی تھیں کہ راستہ دیکھنے کے لئے صرف ایک آنکھ کھلی رہتی تھی۔

دُوسرا مسئلہ کہ کن کن سے پردہ ہے؟ جو لوگ اپنے محرَم ہیں، ان سے پردہ نہیں، اور محرم وہ ہیں جن سے ہمیشہ کے لئے نکاح حرام ہے۔(۵) اور نامحرَموں سے پردہ ہے۔

اگر ضرورت کی بنا پر عورت کو ملازمت کے لئے جانا پڑے تو پردے کا اہتمام ضروری ہے۔

  1. (۱) وتمنع المرأۃ الشابۃ من کشف الوجہ بین رجال لَا لأنَّہٗ عورۃ بل لخوف الفتنۃ ۔۔۔إلخ۔ والمعنٰی تمنع من الکشف لخوف أن یری الرجال وجھھا فتقع الفتنۃ لأنہ مع الکشف قد یقع النظر إلیھا بشھوۃ ۔۔۔إلخ۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
  2. (۲) وللحرۃ جمیع بدنھا حتّٰی شعرھا النازل فی الأصح خلا الوجہ والکفین ۔۔۔ والقدمین علی المعتمد ۔۔۔إلخ۔ وفی الشامیۃ: أی من أقوال ثلاثۃ مصححۃ ثانیھا عورۃ مطلقًا ثالثھا عورۃ خارج الصلاۃ لَا فیھا۔ (شامی ج:۱ ص:۴۰۶، کتاب الصلاۃ، باب شروط الصلاۃ، مطلب فی ستر العورۃ، طبع ایچ ایم سعید)۔
  3. (۳) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞسورة الأحزاب ٥٩ الآية۔ فقال انہ قد اُذن أن تخرجن لحاجتکن، قلت یعنی اُذن لٰـکن أن تخرجن متجلببات ۔۔۔إلخ۔ (تفسیر مظھری ج:۷ ص:۳۸۴)۔ أیضًا: تعلیم المطالب ص:۵، تالیف حکیم الامت حضرت اقدس مولانا اشرف علی تھانویؒ۔
  4. (۴) ﵟ يٰٓأَيُّهَا ٱلنَّبِيُّ قُل لِّأَزۡوَٰجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَآءِ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ يُدۡنِينَ عَلَيۡهِنَّ مِن جَلَٰبِيبِهِنَّ ﵞسورة الأحزاب ٥٩ الآية فقال ابن عباس وعبیدۃ السلمانی: ذالک أن تلویہ المرأۃ حتّٰی لَا یظھر منھا إلّا عین واحدۃ تبصر بھا۔ (تفسیر القرطبی ج:۱۴ ص:۲۴۳)۔
  5. (۵) ومن محرمہ ھی من لَا یحل لہ نکاحھا أبدًا بنسب أو سبب۔ (الدر المختار ج:۶ ص:۳۶۷، کتاب الحظر والْإباحۃ)۔