بینککیملازمت
بینکملازمین،پولیس،کسٹم،واپڈاوالوںکےبچوںکوٹیوشنپڑھانا
سوال:۔
میں ایک اُستاد ہوں،اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کے بچوں کو ٹیوشن پڑھاتا ہوں، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں بینک والوں، پولیس والوں، کسٹم والوں، واپڈا والوں اور اس طرح کے دُوسرے لوگوں کے بچوں کو پڑھاکر اپنی محنت کی ٹیوشن فیس لے سکتا ہوں؟ اَزراہِ کرم ہر ایک کے بارے میں الگ الگ مشورہ دیں۔
جواب:۔
ہر ایک کی تفصیل لکھنا تو مشکل ہے، مختصر یہ کہ جس شخص کی آمدنی کا غالب حصہ حلال کا ہو، وہ آپ کے لئے جائز ہے، اور جس کی آمدنی کا غالب حصہ حلال کا نہ ہو، اس سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اور ان سے کہا جائے کہ آپ بچوں کو پڑھواتے ہیں تو مجھے حلال کے پیسے لاکر دیں۔(۱)
- (۱) آکل الربا وکاسب الحرام أھدیٰ إلیہ أو أضافہ وغالب مالہ حرام لَا یقبل ولَا یأکل ما لم یخبرہ إن ذٰلک المال أصلہ حلال۔ (عالمگیری ج:۵ ص:۳۴۳، الباب الثانی عشر فی الھدایا والضیافات، کتاب الکراھیۃ)۔ أیضًا: إذا کان غالب مال المھدی حلالًا فلا بأس بقبول ھدیتہ وأکل مالہ مالم یتبین أنہ من حرام۔ (الأشباہ والنظائر ص:۱۲۵، طبع إدارۃ القرآن)۔

