بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌کی‌ملازمت

بینک‌کی‌تنخواہ‌کیسی‌ہے؟

سوال:۔

میں ایک بینک میں ملازم ہوں، جس کے بارے میں شاید آپ کو علم ہوگا کہ یہ ادارہ کیسے چلتا ہے۔ ہم بے شک محنت تھوڑی بہت کرتے ہیں لیکن میرا اپنا خیال ہے کہ ہماری تنخواہ حلال نہیں۔ بعض دوستوں کا خیال ہے کہ حلال ہے، اس لئے کہ ہم محنت کرتے ہیں۔ بہرحال گورنمنٹ نے سودی کاروبار ختم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے، اور کچھ کھاتے ختم بھی ہو رہے ہیں، لیکن ابھی مکمل نجات نہیں ملی، آیا ہمارا رزق حلال ہے یا حرام؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب:۔

بینک اپنے ملازمین کو سود میں سے تنخواہ دیتا ہے، اس لئے یہ تنخواہ حلال نہیں۔ اس کی مثال ایسی سمجھ لیجئے کہ کسی زانیہ نے اپنے ملازم رکھے ہوئے ہوں اور وہ ان کو اپنے کسب میں سے تنخواہ دیتی ہو، تو ان ملازمین کے لئے وہ تنخواہ حلال نہیں ہوگی، بالکل یہی مثال بینک ملازمین کی ہے۔ علاوہ ازیں جس طرح سود لینے اور دینے والے پر لعنت آئی ہے، اسی طرح اس کے کاتب و شاہد پر لعنت آئی ہے۔(۱) اس لئے سود کی دستاویزیں لکھنا بھی حرام ہے، اور اس کی اُجرت بھی حرام ہے۔ حرام کو اگر آدمی چھوڑ نہ سکے تو کم از کم درجے میں حرام کو حرام تو سمجھے!