بینککیملازمت
سودسےکیسےبچاجائےجبکہمسلمانملکبھیاسینظامسےمنسلکہیں؟
سوال:۔
بین الاقوامی معاشی نظام سود پر چل رہا ہے، ایک ملک دُوسرے ملک سے قرضہ سود پر حاصل کرتا ہے، آج کے دور میں کوئی ملک بھی ایسا نہیں جو کہ اس معاشی نظام سے علیحدہ رہ سکے، حتیٰ کہ سعودی عرب جیسا مال دار ملک بھی مختلف طریقوں سے اسی معاشی نظام سے منسلک ہے۔ یا تو پوری دُنیا کے معاشی نظام کو یکسر تبدیل کردیا جائے کہ سود کا تصوّر نہ ہو، یا پھر ایک ملک مکمل طور پر ہر لحاظ سے خودکفیل ہو تاکہ اس کو دُوسرے سے قرضہ لینے کی ضرورت پیش نہ آئے۔ ان دو صورتوں کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ہے جو کہ کسی ملک کو اس بین الاقوامی نظام سے علیحدہ رکھے، ورنہ جو ملک قرضہ لے گا، لازم ہے کہ اس ملک کا معاشی نظام سود پر ہی اُستوار ہوگا۔
جواب:۔
مغرب کے یہودی ساہوکاروں نے یہ سودی نظام بنایا ہی ایسے طور پر کہ کوئی ملک معاشی طور پر خودکفیل نہ ہوسکے۔ بہرحال سود تو حرام ہی رہے گا، اس کو حلال قرار دینا تو ہمارے اِختیار میں نہیں۔(۱)
- (۱) ﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨۔ البقرة ٢٧٨

