بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌کی‌ملازمت

بینک‌کے‌سود‌کو‌منافع‌قرار‌دینے‌کے‌دلائل‌کے‌جوابات

سوال:۔

میں ایک بینک ملازم ہوں، تمام عالموں کی طرح آپ کا یہ خیال ہے کہ بینک میں جمع شدہ رقم پر منافع سود ہے، اور اسلام میں سود حرام ہے۔ سود میرے نزدیک بھی حرام ہے، لیکن سود کے بارے میں، میں اپنی رائے تحریر کر رہا ہوں۔ معاف کیجئے گا میری رائے غلط بھی ہوسکتی ہے، آپ کی رائے میرے لئے مقدم ہوگی۔ میرے نزدیک سود وہ ہے جو کسی ضرورت مند شخص کو دے کر اس کی مجبوری سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی دی ہوئی رقم سے زائد رقم لوٹانے کا وعدہ لیا جائے اور وہ ضرورت کے تحت زائد رقم دینے پر مجبور ہو۔

کسی کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اُٹھاکر زیادہ رقم وصول کرنا میرے نزدیک سود ہے، اور اس کو ہمارے مذہب میں سود قرار دیا گیا ہے۔ میرے پاس اپنے اخراجات کے علاوہ کچھ رقم پس انداز تھی جس کو میں اپنے جاننے والے ضرورت مند کو دے دیا کرتا تھا، لیکن ایک دو صاحبان نے میری رقم واپس نہیں کی جبکہ میں ان سے اپنی رقم سے زیادہ وصول نہیں کرتا تھا، اور نہ ہی واپسی کی کوئی مدّت مقرّر ہوئی تھی۔ جب ان کے پاس ہوجاتے تھے وہ مجھے اصل رقم لوٹادیا کرتے تھے، لیکن چند صاحبان کی غلط حرکت نے مجھے رقم کسی کو بھی نہ دینے پر مجبور کردیا۔

میرے پاس جو رقم گھر میں موجود تھی، اس کے چوری ہوجانے کا بھی خوف تھا، اور دُوسرے یہ کہ اگر اسی رقم سے میں کچھ آسائش کی اشیاء خریدتا ہوں تو میرے اخراجات میں اضافہ ہوجائے گا، جبکہ تنخواہ اس کا بوجھ برداشت نہیں کرسکتی، اس لئے میں نے بہتر یہ ہی سمجھا کہ کیوں نہ اس کو بینک میں ڈپازٹ کردیا جائے، لیکن سود کا لفظ میرے ذہن میں تھا، پھر میں نے کافی سوچا اور بالآخر یہ سوچتے ہوئے بینک میں جمع کروادیا کہ اس رقم سے ملکی معیشت میں اضافہ ہوگا، جس سے غریب عوام خوش ہوں گے اور دُوسرے میری معاشی مشکلات میں کمی ہوجائے گی۔ میں بینک کے منافع کو سود اس لئے بھی نہیں سمجھتا کہ اس طرح سے کسی کی مجبوریوں سے فائدہ نہیں اُٹھا رہا، کسی کو نقصان نہیں پہنچا رہا، اور پھر بینک میں جمع شدہ رقم سے ملکی معیشت میں اضافہ کیا جاسکتا ہے، اس طرح سے بیروزگار افراد کو روزگار ملتا ہے اور پھر یہ کہ بینک اپنے منافع میں سے کچھ منافع ہمیں بھی دیتا ہے۔ میرے نزدیک یہ منافع سود اس لئے نہیں ہے کہ اس طرح سے کسی کی ضروریات سے فائدہ نہیں اُٹھایا گیا، کیونکہ بعض دفعہ کسی کو اُدھار دی ہوئی رقم بڑھتے بڑھتے اتنی ہوجاتی ہے کہ اصل رقم لوٹانے کے باوجود بھی اصل رقم سے زائد قرض رہ جاتی ہے، میرے نزدیک صرف اور صرف یہ سود ہے، بینک کا منافع نہیں۔

دُوسری بات میری بینک ملازمت ہے، بینک ملازمت کو آپ عالم حضرات ناجائز کہتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہوا کہ میں جو روزی کما رہا ہوں، وہ بھی ناجائز ہے۔ تو کیا میں ملازمت چھوڑ دُوں اور ماں باپ اور بچوں کو اور خود کو بھوکا رکھوں؟ کیونکہ ملازمت حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔ اور پھر میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر گورنمنٹ ملازم کو جو تنخواہ ملتی ہے اس میں بینک کے منافع کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ اس طرح سے تو ہر گورنمنٹ ملازم ناجائز روزی کما رہا ہے، اور آپ یہ کہیں کہ وہ شخص محنت کرکے مزدوری کما رہا ہے تو ہمیں بھی بینک بغیر محنت کے تنخواہ نہیں دیتا۔ ہم جو تنخواہ بینک سے لیتے ہیں وہ ہماری محنت کی ہوتی ہے، نہ کہ بینک اپنے منافع سے دیتا ہے۔ اور آپ روزی کے اس ذریعہ کو کیا کہیں گے جو کوئی شخص کسی بینک ملازم کے ہاں، رشوت خور، منشیات فروش، مشرک، طوائف اور ڈاکو کے ہاں کام کرکے روزی کماتا ہے؟ ان مندرجہ بالا باتوں سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وہ شخص جو کہیں پر بھی کوئی بھی ملازمت کرتا ہے اس کی تنخواہ میں ناجائز پیسہ ضرور شامل ہوجاتا ہے، لہٰذا میرے ان سوالوں کا تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب:۔

روپیہ قرض دے کر اس پر زائد روپیہ وصول کرنا سود ہے،(۱) خواہ لینے والا مجبوری کی بنا پر قرض لے رہا ہو، یا اپنا کاروبار چمکانے کے لئے، اور وہ جو زائد روپیہ دیتا ہے، خواہ مجبوری کے تحت دیتا ہو یا خوشی سے۔ اس لئے آپ کا یہ خیال صحیح نہیں ہے کہ سود محض مجبوری کی صورت میں ہوتا ہے۔

۱:۔ یہ بینک کا سود جو آپ کو بے ضرر نظر آرہا ہے، اس کے نتائج آج عفریت کی شکل میں ہمارے سامنے ہیں۔ امیروں کا امیر تر ہونا اور غریبوں کا غریب تر ہونا، ملک میں طبقاتی کشمکش کا پیدا ہوجانا اور ملک کا کھربوں روپے کا بیرونی قرضوں کے سود میں جکڑا جانا، اسی سودی نظام کے شاخسانے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سودی نظام کو اللہ اور رسول کے خلاف اعلانِ جنگ قرار دیا ہے، اسلامی معاشرہ خدا اور رسول سے جنگ کرکے جس طرح چور چور ہوچکا ہے، وہ سب کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ میرے علم میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ کچھ لوگوں نے بینک سے سودی قرضہ لیا اور پھر اس لعنت میں ایسے جکڑے گئے کہ نہ جیتے ہیں، نہ مرتے ہیں۔ ہمارے معاشی ماہرین کا فرض یہ تھا کہ وہ بینکاری نظام کی تشکیل غیرسودی خطوط پر استوار کرتے، لیکن افسوس کہ آج تک سود کی شکلیں بدل کر ان کو حلال اور جائز کہنے کے سوا کوئی قدم نہیں اُٹھایا گیا۔

۲:۔ بینک کے ملازمین کو سودی کام (حساب و کتاب) بھی کرنا پڑتا ہے، اور سود ہی سے ان کو تنخواہ بھی ملتی ہے، جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّہٗ سَمِعَ رَسُوْلَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَعَنَ اٰکِلَ الرِّبَا اَوْ مُوْکِلَہٗ وَکَاتِبَہٗ۔‘‘ (مشکوٰۃ ص:۲۴۶)

ترجمہ:۔ ’’اللہ کی لعنت! سود لینے والے پر، دینے والے پر، اس کی گواہی دینے والے پر اور اس کے لکھنے والے پر۔‘‘

جو کام بذاتِ خود حرام ہو، ملعون ہو اور اس کی اُجرت بھی حرام مال ہی سے ملتی ہو، اس کو اگر ناجائز نہ کہا جائے تو کیا کہا جائے؟ فرض کریں کہ ایک شخص نے زنا کا اَڈّہ قائم کر رکھا ہے اور زنا کی آمدنی سے وہ قحبہ خانے کے ملازمین کو تنخواہ دیتا ہے تو کیا اس تنخواہ کو حلال کہا جائے گا؟ اور کیا قحبہ خانے کی ملازمت حلال ہوگی؟

آپ کا یہ شبہ کہ: ’’تمام سرکاری ملازمین کو جو تنخواہ ملتی ہے، اس میں بینک کا منافع شامل ہوتا ہے، اس لئے کوئی ملازمت بھی صحیح نہیں ہوئی‘‘ یہ شبہ اس لئے صحیح نہیں کہ دُوسرے سرکاری ملازمین کو سود کی لکھت پڑھت کے لئے ملازم نہیں رکھا جاتا، بلکہ حلال اور جائز کاموں کے لئے ملازم رکھا جاتا ہے، اس لئے ان کی ملازمت جائز ہے۔ اور گورنمنٹ جو تنخواہ ان کو دیتی ہے وہ سود میں سے نہیں دیتی بلکہ سرکاری خزانے میں جو رُقوم جمع ہوتی ہیں، ان میں سے دیتی ہے، اور بینک ملازمین کو ان پر قیاس کرنا غلط ہے۔

آپ کا یہ کہنا کہ: ’’ملازمت چھوڑ کر والدین کو اور خود کو اور بچوں کو بھوکا رکھوں؟‘‘ اس کے بارے میں یہی عرض کرسکتا ہوں کہ جب قیامت کے دن آپ سے سوال کیا جائے گا کہ: ’’جب ہم نے حلال روزی کے ہزاروں وسائل پیدا کئے تھے، تم نے کیوں حرام کمایا اور کھلایا؟‘‘ تو اس سوال کا کیا جواب دیجئے گا؟ اور میں کہتا ہوں کہ اگر آپ بھوک کے خوف سے بینک کی ملازمت پر مجبور ہیں اور ملازمت نہیں چھوڑ سکتے تو کم سے کم اپنے گناہ کا اقرار تو اللہ کی بارگاہ میں کرسکتے ہیں کہ: ’’یا اللہ! میں اپنی ایمانی کمزوری کی وجہ سے حرام کما اور کھلا رہا ہوں، میں مجرم ہوں، مجھے معاف فرمادیجئے‘‘ اقرارِ جرم کرنے میں تو کسی بھوک، پیاس کا اندیشہ نہیں!

  1. (۱) کل قرض جر نفعًا فھو حرام۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۶، فصل فی القرض)۔