بینککیملازمت
سودیاداروںمیںملازمتکاوبالکسپر؟
سوال:۔
ایک مفتی اور حافظ صاحب سے کسی نے پوچھا کہ بینک کی ملازمت کرنا کیسا ہے؟ اور وہاں سے ملنے والی تنخواہ جائز ہے یا نہیں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ: ’’بینک کی ملازمت جائز ہے، بینک کا ملازم اگر پوری دیانت داری اور محنت سے اپنے فرائض ادا کرے تو اس کی تنخواہ بالکل جائز ہوگی۔ البتہ حکومت اور عوام کو بینکوں کے سودی نظام کو ختم کرنے کی جدوجہد کرنی چاہئے، اور یہ جو بعض علماء بینک ملازم کو غیرمسلم سے اُدھار لے کر اور اپنی تنخواہ سے اس کا قرض ادا کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، یہ کسی طرح بھی صحیح نہیں، بلکہ دِین کے ساتھ مذاق ہے۔‘‘ جناب مولانا صاحب! میں ایک بینک میں ملازم ہوں اور اس پر خجل رہتا تھا، خصوصاً ’’آپ کے مسائل اور ان کا حل‘‘ میں اس موضوع پر آپ کے جوابات پڑھ کر، لیکن اب مفتی صاحب کے مندرجہ بالا جواب سے ایک گونہ اطمینان ہے کہ میری ملازمت ٹھیک ٹھاک ہے، رہ گیا سودی کاروبار بینک کا، وہ حکومت جانے اور عوام۔ آپ کی اس مسئلے میں کیا رائے ہے؟ اور واضح ہو کہ اس مفتی صاحب کے فتویٰ کے بعد بہت سے لوگوں نے سودی قرضہ حلال جان کر لینا شروع کردیا ہے۔
جواب:۔
اس سلسلے میں چند اُمور لائقِ گزارش ہیں:
اوّل:۔ سود کا لین دین قرآنِ کریم کی نصِ قطعی سے حرام ہے،(۱) اس کو حلال سمجھنے والا مسلمان نہیں، بلکہ مرتد ہے۔(۲) اور سودی کاروبار نہ چھوڑنے والوں کے خلاف قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلانِ جنگ کیا گیا ہے (البقرۃ:۲۷۹)۔(۳)
دوم:۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے، سود لینے والے پر، سود دینے والے پر، سود کے لکھنے والے پر اور سود کی گواہی دینے والوں پر، اور فرمایا کہ یہ سب گناہ میں برابر کے شریک ہیں (مشکوٰۃ ص:۲۴۴)۔(۴)
سوم:۔ علمائے اُمت نے جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ’’غیرسودی بینکاری‘‘ کا مکمل خاکہ بناکر دیا، لیکن جن دِماغوں میں یہودیوں کا ’’ساہوکاری نظام‘‘ گھر کئے ہوئے ہے، انہوں نے اس پر عمل درآمد ہی نہیں کیا، نہ شاید وہ اس کا ارادہ ہی رکھتے ہیں۔ اس سے زیادہ ’’عوام‘‘ کیا جدوجہد کرسکتے ہیں؟
چہارم:۔ جس شخص کے پاس حرام کا پیسہ ہو، اس کو نہ اس کا کھانا جائز ہے، نہ اس سے صدقہ کرسکتا ہے، نہ حج کرسکتا ہے، کیونکہ حرام سے کیا ہوا صدقہ اور حج بارگاہِ الٰہی میں قبول نہیں۔(۵) فقہائے اُمت نے اس کے لئے یہ تدبیر لکھی ہے کہ وہ کسی غیرمسلم سے قرض لے کر خرچ کرلے، کیونکہ یہ قرض اس کے لئے حلال ہے، پھر حرام مال قرضے میں ادا کردے، اس کے دینے کا گناہ ضرور ہوگا، مگر حرام کھانے سے بچ جائے گا۔(۶)
پنجم:۔ ہر شخص کا فتویٰ لائقِ اعتماد نہیں ہوتا، اور جس شخص کا فتویٰ لائقِ اعتماد نہ ہو، اس سے مسئلہ پوچھنا بھی گناہ ہے، ورنہ حدیثِ نبوی کے مطابق ’’ایسے مفتی خود بھی گمراہ ہوں گے، اور دُوسروں کو بھی گمراہ کریں گے‘‘ (مشکوٰۃ ص:۳۳)۔(۷)
ششم:۔ غیرمعتبر فتویٰ پر مطمئن ہوجانا عدمِ تدین کی دلیل ہے، ورنہ جب آدمی کو کسی چیز کے جواز اور عدمِ جواز میں تردّد ہوجائے تو دِین داری اور احتیاط کی علامت یہ ہے کہ آدمی ایسی چیز سے پرہیز کرے۔ مثلاً: اگر آپ کو تردّد ہوجائے کہ یہ گوشت حلال ہے یا مردار؟ ایک لائقِ اعتماد شخص کہتا ہے کہ: ’’یہ مردار ہے‘‘ اور دُوسرا شخص (جس کا لائقِ اعتماد ہونا بھی معلوم نہیں) کہتا ہے کہ: ’’یہ حلال ہے‘‘ تو کیا آپ اس کو بغیر کھٹک کے اطمینان سے کھالیں گے؟ یا کسی برتن میں تردّد ہوجائے کہ اس میں پانی ہے یا پیشاب؟ ایک قابلِ اعتماد، ثقہ آدمی آپ کو بتاتا ہے کہ: ’’اس میں میرے سامنے پیشاب رکھا گیا ہے‘‘ اور دُوسرا کہتا ہے کہ: ’’میاں! ایسی باتوں پر کان نہیں دھرا کرتے، اطمینان سے پانی سمجھ کر اس کو پی لو‘‘ تو کیا آپ کو اس شخص کی بات پر اطمینان ہوجائے گا۔۔ـ۔؟ الغرض شرع و عقل کا مُسلّمہ اُصول یہ ہے کہ جس چیز میں تردّد ہو اس کو چھوڑ دو۔(۸) اُمید ہے کہ ان اُمور کی وضاحت سے آپ کے سوال کا جواب مل گیا ہوگا۔
- (۱) ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞالبقرة ٢٧٨ و ٢٧٩۔ قَالَ تَعَالَىﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥۔
- (۲) إستحلال المعصیۃ کفر، إذا ثبت کونھا معصیۃ بدلیل قطعی۔ (رد المحتار ج:۲ ص:۲۹۲، باب زکاۃ الغنم)۔
- (۳) ایضاً قَالَ تَعَالَى ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞالبقرة ٢٧٨ و ٢٧٩۔ قَالَ تَعَالَىﵟ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ البقرة ٢٧٥
- (۴) عن جابر رضی اللہ عنہ قال: لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔
- (۵) عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: لَا تقبل صلٰوۃ بغیر طھور ولَا صدقۃ من غلول۔ (ترمذی ج:۱ ص:۳)۔ ویجتھد فی تحصیل نفقۃ حلال فإنہ لَا یقبل بالنفقۃ الحرام کما ورد فی الحدیث۔ (ردالمحتار، کتاب الحج ج:۲ ص:۴۵۶)۔
- (۶) وفی شرح حیل الخصاف لشمس الأئمۃ الحلوانی رحمہ اللہ ان الشیخ الْإمام أبا القاسم الحکیم کان ممن یأخذ جائزۃ السلطان وکان یستقرض بجمیع حوائجہ وما یأخذ من الجائزۃ کان یقضی بہ دینہ۔ (خلاصۃ الفتاویٰ ج:۴ ص:۳۴۹)۔ أیضًا: وإذا أراد أن یحج ولم یکن معہ إلّا مال حرام أو فیہ شبھۃ فیستدین للحج من مال حلال لیس فیہ شبھۃ ویحج بہ ثم یقض دینہ فی مالہ۔ (إرشاد الساری ص:۳ طبع بیروت)۔
- (۷) عن عبداللہ بن عمرو بن العاص قال: سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول: إن اللہ لَا یقبض العلم إنتزاعًا ینتزعہ من الناس ولٰـکن یقبض العلم بقبض العلماء حتّٰی إذا لم یبق عالمًا إتخذ الناس رؤسًا جھّالًا فسئِلوا فأفتوا بغیر علم، فضلّوا وأضلّوا۔ (بخاری ج:۱ ص:۲۰، باب کیف یقبض العلم)۔
- (۸) وفی الحدیث: دع ما یریبک إلٰی ما لَا یریبک۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۲، کتاب البیوع، باب الکسب وطلب الحلال)۔

