بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود‌کی‌رقم‌کا‌مصرف

سود‌کی‌رقم‌ملازمہ‌کو‌بطور‌تنخواہ‌دینا

سوال:۔

میں نے اپنے ۱۰ ہزار روپے کسی دُکان دار کے پاس رکھوادئیے تھے، وہ ہر ماہ مجھے اس کے اُوپر تین سو روپیہ دیتا ہے، اب ہمیں آپ یہ بتائیں کہ یہ رقم جائز ہے یا نہیں؟ ہمارے مسجد کے پیش اِمام سے پوچھا گیا تو انہوں نے اس کو سود قرار دے دیا ہے، جب سے یہ پیسے میں اپنی کام والی کو دے دیتی ہوں۔ اس کو یہ بتاکر دیتی ہوں کہ یہ پیسے سود کے ہیں، یا ان پیسوں کے بدلے کوئی چیز کپڑا وغیرہ دے دیتی ہوں، وہ اپنی مرضی سے یہ تمام چیزیں اور پیسے لیتی ہے، جبکہ اسے پتا ہے کہ یہ سود ہے۔ اب آپ مجھے قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کہ یہ پیسے کام والی کو دینے سے میں گنہگار تو نہیں ہوتی ہوں؟

جواب:۔

اگر دُکان دار آپ کی رقم سے تجارت کرے اور اس پر جو منافع حاصل ہو اس منافع کا ایک حصہ مثلاً: پچاس فیصد آپ کو دیا کرے یہ تو جائز ہے۔ اور اگر اس نے تین سو روپیہ آپ کے مقرّر کردئیے تو یہ سود ہے۔(۱) سود کی رقم کا لینا بھی حرام ہے اور اس کا خرچ کرنا بھی حرام ہے۔ آپ جو اپنی ملازمہ کو سود کے پیسے دیتی ہیں، آپ کے لئے ان کو دینا بھی جائز نہیں،(۲) اور اس کے لئے لینا جائز نہیں، سود کی رقم کسی محتاج کو بغیر صدقہ کی نیت کے دے دینی چاہئے۔(۳)

  1. (۱) المضاربۃ ھی الشرکۃ فی الربح بمال من جانب وعمل من جانب ۔۔۔ وشرطھا الرابع أن یکون الربح بینھما شائعًا کالنصف والثلث لَا سھمًا معینًا یقطع الشرکۃ کمأۃ درھم ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۷ ص:۲۶۳، ۲۶۴، کتاب المضاربۃ)۔
  2. (۲) عن علی أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعن آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ (مسلم ج:۲ ص:۲۷)۔ ما حرم فعلہ حرم طلبہ، ما حرم أخذہ حرم إعطاؤہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔
  3. (۳) ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔