سودکیرقمکامصرف
سودکیرقمکارِخیرمیںنہلگائیںبلکہبغیرنیتِصدقہکسیغریبکودےدیں
سوال:۔
میں ملازمت کرتا ہوں، خرچ سے جو پیسے بچت ہوتے ہیں وہ بینک میں جمع کراتا ہوں، اور چند دوست لوگ بھی بطور امانت میرے پاس رکھتے ہیں، جو کہ وہ بھی بینک میں رکھتا ہوں، کیونکہ محفوظ رہنے کا دُوسرا راستہ ہے نہیں، مگر بینک میں رکھنے سے مجھے ایک پریشانی بنی ہوئی ہے، وہ یہ کہ بینک میں سود دیتے ہیں جو کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ حرام نہیں ہے، اور بعض کہتے ہیں کہ حرام ہے، اگر حرام ہے تو وہ منافع (سود) بینک کو ہی چھوڑ دُوں یا بینک سے لے کر مسکینوں غریبوں یا کارِ خیر مثلاً: مسجد، راستے بنانے میں لگا دُوں؟
جواب:۔
بینک کے سود کو جو لوگ حلال کہتے ہیں، غلط کہتے ہیں۔ مگر بینک میں سود کی رقم نہ چھوڑئیے، بلکہ نکلواکر بغیر نیتِ صدقہ کے کسی ضرورت مند محتاج کو دے دیجئے، کسی کارِ خیر میں اس رقم کا لگانا جائز نہیں۔(۱)
- (۱) والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (شامی ج:۵ ص:۹۹)۔ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر والْإباحۃ ج:۶ ص:۳۸۵)۔ أیضًا: ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔

