بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود‌کی‌رقم‌کا‌مصرف

فروغِ‌تعلیم‌کے‌لئے‌سودی‌ذرائع‌اِستعمال‌کرنا

سوال:۔

ہمارے علاقے میں بچیوں کے پرائمری اسکول نہ ہونے کی وجہ سے بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن نامی اِدارے نے پرائیویٹ اسکول کھلوائے ہیں، جس کے لئے اِمداد مذکورہ بالا اِدارہ فراہم کرتا ہے، اس اسکول کے اِنتظام کے لئے متعلقہ محلے کے بزرگوں نے تعلیمی کمیٹی بنائی ہے، یہ کمیٹی بغیر کسی معاوضے کے کام کرتی ہے۔ ’’بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن‘‘ کی طرف سے یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ جو اِمداد ہم دیتے ہیں، اس کو آپ بینک میں سیونگ اکاؤنٹ میں رکھیں گے، جس پر بینک سود بھی دے گا۔ اس اکاؤنٹ کے کھلنے کے نتیجے میں جو سود ملے گا اس کا کیا حکم ہے؟ نیز کیا ہم سب اس اَمر کے اِرتکاب پر گناہگار ہوں گے؟

جواب:۔

اس میں شک نہیں کہ سود حرام ہے اور آپ بچیوں پر اس سود کو اِستعمال کریں گے، تو لازماً آپ بھی گناہگار ہوں گے، اور بچیاں اس حرام کے پیسے کو اِستعمال کریں گی تو اس کا نتیجہ بھی غلط نکلے گا۔ کوئی ایسی صورت اِختیار کریں کہ آپ کو سود اِستعمال نہ کرنا پڑے۔(۱)

  1. (۱) عن علی أنہ سمع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لعن آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۶)۔