بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود‌کی‌رقم‌کا‌مصرف

سود‌کی‌رقم‌استعمال‌کرنا‌حرام‌ہے،‌تو‌غریب‌کو‌کیوں‌دی‌جائے؟

سوال:۔

آج کل مختلف افراد کی طرف سے یہ سننے میں آتا رہتا ہے کہ جو لوگ بینک سے سود نہیں لینا چاہتے، وہ کرنٹ اکاؤنٹ کھول لیں یا پھر اپنے سیونگ اکاؤنٹ کے لئے بینک کو ہدایت کردیں کہ اس اکاؤنٹ میں جمع شدہ رقم پر سود نہ لگایا جائے۔ چلئے یہاں تک تو ٹھیک ہے، لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر بینک والوں نے تمہاری رقم پر سود لگا ہی دیا ہے تو اس رقم (سود کی رقم) کو بینک میں بیکار مت پڑا رہنے دو، بلکہ نکال کر کسی غریب ضرورت مند کو صدقہ کردو۔ مجھے اس سلسلے میں یہ دریافت کرنا ہے کہ کیا سود جیسی حرام کی رقم صدقہ کی جاسکتی ہے؟ اگر ایسا ممکن ہے تو پھر چوری، ڈاکے، رشوت وغیرہ سے حاصل کی گئی آمدنی بھی بطور صدقہ دیا جانا جائز سمجھا جائے۔ حکم تو یہ ہے کہ ’’دُوسرے مسلمان بھائی کے لئے بھی تم ویسی ہی چیز پسند کرو جیسی اپنے لئے پسند کرتے ہو‘‘ لیکن ہم سے کہا یہ جارہا ہے کہ جو حرام مال (سود) تم خود استعمال نہیں کرسکے وہ دُوسرے مسلمان کو دے دو، یہ بات کہاں تک دُرست ہے؟

جواب:۔

اگر خبیث مال آدمی کی ملک میں آجائے تو اس کو اپنی مِلک سے نکالنا ضروری ہے، اب دو صورتیں ممکن ہیں، ایک یہ کہ مثلاً سمندر میں پھینک کر ضائع کردے۔ دُوسرے یہ کہ اپنی مِلک سے خارج کرنے کے لئے کسی محتاج کو صدقہ کی نیت کے بغیر دے دے۔ ان دونوں صورتوں میں سے پہلی صورت کی شریعت نے اجازت نہیں دی،(۱) لہٰذا دُوسری کی اجازت ہے۔(۲)

  1. (۱) عن أبی ذر عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال: الزھادۃ فی الدنیا لیست بتحریم الحلال ولَا إضاعۃ المال ۔۔۔إلخ۔ (مشکٰوۃ ص:۴۵۳، باب التوکل والصبر)۔ وفی المرقاۃ: قولہ ولَا إضاعۃ المال إلخ أی بتضییعہ وصرفہ فی غیر محلہ بأن یرمیہ فی بحر أو یعطیہ للناس من غیر تمیز بین غنی وفقیر ۔۔۔إلخ۔ (مرقاۃ ج:۵ ص:۹۰ طبع بمبئی)۔
  2. (۲) والحاصل انہ إن علم أرباب الأموال وجب ردّہ علیھم، وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ بنیۃ صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹ مطلب فیمن ورث مالًا حرامًا)۔ لأن سبیل الکسب الخبیث التصدق إذا تعذر الرد علٰی صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۶ ص:۳۸۵ کتاب الحظر والْإباحۃ، فصل فی البیع، طبع ایچ ایم سعید)۔ أیضًا: ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔