بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌وغیرہ‌سے‌سود‌لینا‌دینا

سود‌کی‌تعریف

سوال:۔

سود کی شرعی تعریف کے ساتھ مفصل روشنی ڈالیں، یا آپ نے اس موضوع پر کوئی کتاب لکھی ہو تو اس کے متعلق لکھیں۔ میں ایک سرکاری ملازم تھا، ریٹائرمنٹ لے رہا ہوں، کیا بینک جو منافع دیتے ہیں وہ سود ہے؟ جبکہ بینک زکوٰۃ بھی جمع شدہ رقم سے کاٹ لیتے ہیں۔ بینک میں پی ایل ایس اکاؤنٹ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ جس کو پرافٹ اینڈ لاس اینڈ شیئر کہا جاتا ہے، اگر بینک ہر ماہ فکس منافع نہیں دیتا بلکہ کسی ماہ کم، کسی ماہ زیادہ، کیا یہ بھی سود ہے؟ اَزراہِ کرم اس مسئلے کا مفصل حل لکھیں تاکہ میں خدا اور رسول کے اَحکامات کے مطابق کسی طرح بھی اس لعنت کی زد میں نہ آؤں۔

جواب:۔

’’جو نفع معاوضے سے خالی ہو‘‘ وہ سود کہلاتا ہے۔(۱) مثلاً: سو روپے کے بدلے ایک سو ایک روپے لینا۔ تو سو کے بدلے میں تو سو روپے ہوگئے، زائد جو ایک روپیہ طے کیا ہے، یہ معاوضے سے خالی ہے۔ اس کا نام ’’سود‘‘ ہے۔ اس موضوع پر حضرت مفتی محمد شفیعؒ (سابق مفتیٔ اعظم پاکستان) کا رسالہ ’’مسئلہ سود‘‘ لائقِ دید ہے۔ بینک جو منافع دیتے ہیں وہ سود ہے۔ پی ایل ایس بھی سودی کھاتہ ہے، اگرچہ اس کا نام بدل دیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں بینکنگ کا نظام ہی سود پر مبنی ہے، اس لئے اس کا کوئی شعبہ سود سے مبرا نہیں، اِلَّا ماشاء اللہ!

  1. (۱) باب الربا فضل مال بلا عوض فی معاوضۃ مال بمال أی فضل أحد المتجانسین علی الآخر ۔۔۔إلخ۔ (البحر الرائق ج:۶ ص:۱۳۵ طبع بیروت، باب الربا)۔