بینکوغیرہسےسودلینادینا
بینککےسرٹیفکیٹپرملنےوالیرقمکیشرعیحیثیت
سوال:۔
جس وقت میرے شوہر کا انتقال ہوا تو میرے دو چھوٹے بچے عمر ۳ سال لڑکا اور ۵ ماہ کی لڑکی تھی، میرے شوہر کے پاس دس ہزار کی رقم کا ایک سرٹیفکیٹ تھا، شوہر کے انتقال کے بعد یہ سرٹیفکیٹ اپنے جیٹھ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے میں نے کہا کہ: میرے نام منتقل کرادیں، تو بینک والوں نے کہا: اس رقم کے چار حصہ دار ہیں: بیوہ، والدہ، لڑکی، لڑکا، اس لئے یہ بیوہ کے نام منتقل نہیں ہوگا، اگر بیوہ اور والدہ اپنا حصہ لینا چاہیں تو نابالغ کی رقم بینک میں جمع رہے گی ان کے بالغ ہونے تک، اور اگر بیوہ، والدہ اپنا حصہ معاف کردیں تو یہ سرٹیفکیٹ عدالت میں جمع ہوجائے گا، بچوں کے بالغ ہونے پر انہیں ملے گا۔ اس رقم پر چونکہ منافع دیا جاتا ہے اس لئے جب لڑکا ۱۸ برس کا ہوگا تو یہ رقم ایک لاکھ سے زیادہ ہوگی، جب میری ساس نے یہ سنا تو انہوں نے اپنا حصہ معاف کردیا، لازماً مجھے بھی معاف کرنا پڑا۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب مجھے دِینی معلومات رَتی برابر نہیں تھی، میں نے بھی سوچا جب لڑکا بڑا ہوگا لکھ پتی ہوجائے گا۔ مجھے سود اور منافع کا فرق معلوم نہ تھا۔ اب مجھے جبکہ اللہ نے دِینی معلومات دیں اور میں سمجھنے لگی سود اور منافع کیا ہے، سود کھانے والوں کا انجام کیا ہوگا، میں اس سلسلے میں آپ سے چند سوالات کرتی ہوں۔
سوال:۔
دس ہزار کی رقم بشکل سرٹیفکیٹ میرے شوہر کے نام ہے، یہ رقم تقریباً مجھے سولہ سال کے بعد ملے گی، بچوں کے بالغ ہونے پر، اس سولہ سال کے عرصے میں یہ رقم بینک میں جمع رہی، کیا مجھے اس کی زکوٰۃ دینی ہوگی جبکہ یہ میرے شوہر کے نام ہے؟
سوال:۔
میں صرف اصل رقم لینا چاہتی ہوں تو کیا بقایا رقم جو ایک لاکھ ہوگی، مجھے یہ رقم کسی فلاحی ادارے کو دینا چاہئے؟
سوال:۔
یہ رقم جو میرے شوہر نے اپنی زندگی میں اپنے ہاتھ سے بینک ڈپازٹ سرٹیفکیٹ کے طور پر خریدا اور اب تک ان کے نام ہے، کیا اس رقم پر ملنے والے سود کا گناہ مرحوم کو نہ ہوگا؟
جواب:۔
جب یہ رقم آپ بچوں کے لئے چھوڑ چکی ہیں تو آپ کے ذمہ زکوٰۃ نہیں، اور بالغ ہونے تک بچوں کے ذمہ بھی نہیں، بالغ ہونے کے بعد ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔(۱)
جواب:۔
یہ سود کی رقم بغیر نیتِ صدقہ کے محتاجوں کو دے دی جائے۔(۲)
جواب:۔
اگر مرحوم نے اس رقم کا سرٹیفکیٹ سود لینے کی نیت سے خریدا تھا تو گناہ ان کے ذمہ بھی ہوگا، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے۔ (آمین)
- (۱) وشرط إفتراضھا عقل وبلوغ۔ (در المختار ج:۲ ص:۲۵۸، کتاب الزکاۃ، طبع سعید)
- (۲) والحاصل أنہ إن علم أرباب الأموال وجب ردہ علیھم وإلّا فإن علم عین الحرام لَا یحل لہ ویتصدق بہ نیۃ صاحبہ۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۹۹)۔ أیضًا: ویتصدق بلا نیۃ الثواب وینوی بہ برائۃ الذمۃ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔

