بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌وغیرہ‌سے‌سود‌لینا‌دینا

بے‌روزگار،‌گورنمنٹ‌سے‌سودی‌قرض‌لے‌یا‌پھر‌بھوکوں‌مرنا‌قبول‌کرے؟

سوال:۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دِین صاحب متین اس بارے میں کہ ایک جوان بے روزگار ہے، روزگار کی تلاش میں کافی ہاتھ پیر مارے، لیکن بے سود، اسی دوران حکومت کی جانب سے پچاس ہزار رسے دو لاکھ روپے تک قرضہ ایسے افراد کو دینے کا اِعلان ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے اس قرضے پر سود بھی ادا کرنا وہگا، سود کے ستر گناہوں میں سب سے سے کم تر درجے کا گناہ بھی سائل پر عیاں ہے، لیکن نہ تو روزگار مہیا ہے، اور نہ ہی مذکورہ صورت قرضہ کے علاوہ کاروبار چلانے کا کوئی اور راستہ ہے، کیا ایسی صورت میں سود پر دئیے جانے والے اس قرضے کو قبول کیا جائے؟ یا بے روزگاری کی لعنت کو ایسے سود والے قرضے پر ترجیح دے کر بھوکوں مرنا قبول کیا جائے؟ اگر ’’مرتا کیا نہ کرتا‘‘ والے مقولے پر عمل کرکے سودی قرضے کو قبول کیا جائے تو کیا اس سلسلے میں سائل کا مؤاخذہ تو نہیں ہوگا؟ شریعتِ محمدی میں سے فقہِ حنفیہ کے اِرشادات مفصل تحریر فرماکر ثوابِ دارین حاصل کیجئے۔

جواب:۔

اس ناکارہ کا تجربہ یہ ہے کہ جو شخص سودی قرض کے جال میں ایک بار پھنس گیا، پھر مدۃالعمر نہیں نکل سکا، ساری عمر سود اَدا کرتا رہا، اور قرضہ جوں کا توں رہا۔(۱) بے روزگاری کے لئے چھابڑی لگائی جاسکتی ہے، ٹوکری اُٹھائی جاسکتی ہے، کوئی اور ہلکی پھلکی محنت مزدوری کی جاسکتی ہے، واللہ اعلم!

  1. (۱) عن ابن مسعود قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ان الربا وإن کثر فإن عاقبتہ تصیر إلٰی قُلّ۔ رواھما ابن ماجۃ والبیھقی فی شعب الْإیمان۔ (مشکٰوۃ ص:۲۴۶ باب الربا، طبع قدیمی)۔