بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌وغیرہ‌سے‌سود‌لینا‌دینا

’’کریڈٹ‌کارڈ‘‘‌اِستعمال‌کرنا‌شرعاً‌کیسا‌ہے؟

سوال:۔

کریڈٹ کارڈ (Credit Card) کے بارے میں معلوم کرنا تھا، اس کو ہم اِستعمال کرسکتے ہیں یا نہیں؟ میری معلومات ہے کہ کریڈیٹ کارڈ کی سالانہ فیس ۲۰۰۰روپے ہے، کریڈٹ کارڈ کو ملک کے اندر یا بیرونِ ملک اِستعمال کریں تو ایک ماہ کے اندر وہ رقم واپس کردیں تو کوئی سود نہیں دینا پڑتا، اور ایک ماہ بعد اگر رقم دیں تو اس پر سود دینا پڑتا ہے۔ یہ بیرونِ ملک کام آتا ہے، رقم لے کر جانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جواب:۔

ایک مہینے کے اندر اگر رقم ادا کردی گئی تو جائز ہے، بعد میں ادا کرنے پر سود دینا پڑتا ہے یہ جائز نہیں۔ لیکن تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ چاہے وقت پر رقم ادا کردی جائے، تب بھی کریڈٹ کارڈ جاری کرنے والا بینک کریڈٹ کارڈ لے کر اشیاء مہیا کرنے والے دُکان دار سے اپنا کمیشن یا سود ہر حال میں وصول کرتا ہے، اس لئے گویا کریڈٹ کارڈ کا اِستعمال کرنے والا شخص اگرچہ خود سود نہیں دیتا، مگر بینک کو سود دِلانے کا ذریعہ ضرور بنتا ہے، لہٰذا اس کا اِستعمال ناجائز اور حرام ہے۔(۱)

  1. (۱) لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء۔ (مشکوٰۃ، باب الربا، ص:۲۴۳)۔ﵟ وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلۡإِثۡمِ وَٱلۡعُدۡوَٰنِۚ ﵞ المائدة ٢۔ أیضًا: ما حرم فعلہ حرم طلبہ۔ (قواعد الفقہ ص:۱۱۵)۔