بینکوغیرہسےسودلینادینا
منافعکیمتعینشرحپرروپیہدیناسودہے
سوال:۔
میں عرصہ دو سال سے سعودی عرب میں ملازم ہوں، معقول آمدنی ہے اور اس سال چھٹی کے دوران ایک لاکھ روپیہ قومی بچت میں جمع کرادیا ہے، جس کے منافع کی شرح سالانہ ۱۵ فیصد ہے قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیں کیا یہ کاروبار صحیح ہے؟ جبکہ سروس میں رہ کر میں کوئی اور کام نہیں کرسکتا۔
جواب:۔
متعین شرح پر روپیہ دینا سود ہے، یہ کسی طرح بھی حلال نہیں، آپ اپنا سرمایہ کسی ایسے ادارے میں لگائیں جو جائز کاروبار کرتا ہو، اور حاصل شدہ منافع تقسیم کرتا ہو۔(۱)
- (۱) ومن شرطھا أن یکون الربح بینھما مشاعًا لَا یستحق أحدھما دراھم مسماۃ من الربح لأن شرط ذٰلک یقطع الشرکۃ بینھما ولَا بد منھا کما ھی فی عقد الشرکۃ۔ (الھدایۃ ج:۳ ص:۲۵۸ کتاب المضاربۃ، وکذا فی بحر الرائق ج:۷ ص:۲۶۴)۔ وفی جمع العلوم الربا شرعًا عبارۃ عن عقد فاسد وإن لم یکن فیہ زیادۃ ۔۔۔إلخ۔ (بحر الرائق، باب الربا ج:۶ ص:۱۲۵، طبع دار المعرفۃ، بیروت)۔

