بینکوغیرہسےسودلینادینا
کیامیںگریجویٹیکیرقملےکربینکمیںرکھکرسودلوںکیونکہگورنمنٹبھیتوسودہیدےرہیہے؟
سوال:۔
حکومت میری اصل تنخواہ ۳۵۱۴روپے سے مبلغ ۲۴۴۹روپے خرید کر بقیہ رقم ماہوار پنشن دیتی ہے۔ قوانین کے مطابق خریدی گئی پنشن سے مبلغ ۳۳۶۶۱۲روپے یکمشت گریجویٹی ادا کردی جاتی ہے، اگر میں مزید نوکری کروں تو میری گریجویٹی حکومت کے پاس رہے گی اور حکومت اس رقم سے سودی کاروبار میں حصہ لے گی اور اگر میں اسی رقم (گریجویٹی) کو بینک میں اپنی مرضی سے جمع کرالوں تو مجھے مبلغ ۴۴۵۵روپے ماہوار سود بھی ملے گا اور رقم بھی محفوظ رہے گی، اور قوانین کے مطابق اگر میں مزید نوکری کروں تو عمر بڑھنے کے نتیجے میں مجھے ہر سال مبلغ ۹۹/۱,۱۶۳روپے نقصان ہوگا، اگر میں اپنے نقصان کو برداشت کرلوں اور ریٹائرمنٹ نہ لوں تو میری رقم سے حکومت جو سودی کاروبار کرے گی اس کا گناہ میرے اُوپر ہوگا یا حکومت پر؟
جواب:۔
حکومت کے عمل کا آپ پر وَبال نہیں ہوگا، اگر آپ اس رقم کو سود پر دیں گے تو گناہ ہوگا، اور سود کی رقم حرام ہوگی۔(۱)
- (۱) کل قرض جر منفعۃ فھو وجہ من وجوہ الربا۔ (تکملۃ فتح الملھم ج:۱ ص:۵۷۵)۔ کل قرض جر نفعًا فھو حرام۔ (ردالمحتار، فصل فی القرض ج:۵ ص:۱۶۶ طبع سعید)۔

