بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بینک‌وغیرہ‌سے‌سود‌لینا‌دینا

مقرّرہ‌رقم،‌مقرّرہ‌وقت‌کے‌لئے‌کسی‌کمپنی‌کو‌دے‌کر،‌مقرّرہ‌منافع‌لینا

سوال:۔

اگر کوئی فرم یا ادارہ ایک مقرّرہ رقم، مقرّرہ وقت پر بطور قرض لے اور ہر سال منافع کے طور پر ایک مقرّرہ منافع دے، جب تک کہ وہ راقم واپس نہ لوٹادے۔ اب آپ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتائیے کہ یہ منافع واقعی ایک منافع ہے یا سود ہے؟ بعض حضرات اس کو سود کہتے ہیں اور بعض حضرات اس کو منافع کہتے ہیں، برائے مہربانی اس کا حل بتادیں۔

جواب:۔

شرعاً یہ سود ہے،(۱) جس سے باز نہ آنے والوں کے خلاف اللہ تعالیٰ نے اعلانِ جنگ کیا ہے۔(۲) مسلمانوں کو اس سے توبہ کرنی چاہئے اور جن لوگوں نے ایسی فرم میں رقم دے رکھی ہو، انہیں یہ رقم واپس لے لینی چاہئے۔

  1. (۱) کل قرض جر نفعًا فھو حرام۔ (رد المحتار ج:۵ ص:۱۶۶، فصل فی القرض، طبع سعید)۔
  2. (۲)ﵟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ ٢٧٨ فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ ﵞ البقرة ٢٧٨ و٢٧٩۔