سود
بینککےذریعےباہرسےمالمنگوانا
سوال:۔
باہر سے مال منگوانے کی صورت میں بینک کے ذریعہ کام کرنا پڑتا ہے، جس میں یہاں بینک میں ’’ایل۔سی‘‘ کھولنا پڑتی ہے، جس میں مال کی مالیت کا کچھ فیصد بینک میں فی الفور ادا کرنا پڑتا ہے، بقایا رقم بینک خود دیتا ہے، جو رقم بینک لگاتا ہے، بینک اس پر سود لیتا ہے، شرعاً اس کا کیا جواز ہے؟
جواب:۔
اس سوال کا جواب معلوم کرنے کے لئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ بینک کی حیثیت کیا ہے؟ کیا وہ مال منگوانے والوں کے وکیل کی حیثیت سے مال منگواتا ہے یا خود خریدار کی حیثیت سے مال منگواکر ان کو دیتا ہے؟ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ: ’’بقایا رقم بینک خود دیتا ہے‘‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بینک اس چیز کو خود خریدار کی حیثیت سے منگواتا ہے اور اس پر نفع لے کر اس شخص کے پاس فروخت کرتا ہے، اگر یہ صورت ہو تو شرعاً جائز ہے۔(۱) دُوسرے اہلِ علم سے بھی ان کی رائے معلوم کرلی جائے۔
- (۱) المرابحۃ نقل ما ملکہ بالعقد الأوّل بالثمن الأوّل مع زیادۃ ربح ۔۔۔ والبیعان جائزان لِاستجماع شرائط الجواز والحاجۃ ماسۃ ۔۔۔إلخ۔ (ھدایۃ، کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ ج:۳ ص:۳۷)۔

