بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود

گاڑی‌بینک‌خرید‌کر‌منافع‌پر‌بیچ‌دے‌تو‌جائز‌ہے

سوال:۔

’’الف‘‘ ۳۰ ہزار روپے قیمت کی گاڑی خریدنا چاہتا ہے، مبلغ ۳۰ ہزار اس کے پاس نہیں ہیں، گاڑی کی اصل قیمت کا بل بنواکر ’’الف‘‘ بینک میں جاتا ہے، بینک ۳۰ہزار کی گاڑی خرید کر ۵ہزار روپے منافع پر یعنی ۳۵ ہزار روپے میں یہ گاڑی ’’الف‘‘ کو بیچ دیتا ہے۔ ’’الف‘‘ گاڑی کی قیمت ۳۵ ہزار روپے اقساط میں ادا کرتا ہے، یعنی ۵ہزار روپے ’’الف‘‘ نے ایڈوانس دے کر گاڑی اپنے قبضے میں لے لی ہے، بقیہ ۳۰ ہزار روپے دس قسطوں میں ۳ ہزار روپے ماہانہ ادا کرے گا۔ کیا اس صورت میں ۵ ہزار روپے بینک کے لئے سود ہوگا یا نہیں؟ ایسا کاروبار کرنا شرعی طور پر جائز ہے یا نہیں؟ برائے مہربانی تفصیل سے بتائیے۔

جواب:۔

اس معاملے کی دو صورتیں ہیں:

اوّل:۔ یہ ہے کہ بینک ۳۰ ہزار روپے میں گاڑی خرید کر اس کو ۳۵ہزار روپے میں فروخت کردے، یعنی کمپنی سے سودا بینک کرے اور گاڑی خریدنے کے بعد اس شخص کے پاس فروخت کرے، یہ صورت تو جائز ہے۔

دوم:۔ یہ ہے کہ گاڑی تو ’’الف‘‘ نے خریدی اور اس گاڑی کا بل ادا کرنے کے لئے بینک سے قرض لیا، بینک نے ۳۰ ہزار روپے پر ۵ ہزار روپے سود لگاکر اس کو قرض دے دیا، یہ صورت ناجائز ہے۔(۱) آپ نے جو صورت لکھی ہے وہ دُوسری صورت سے ملتی جلتی ہے، اس لئے یہ جائز نہیں۔

  1. (۱) کل قرض جر نفعًا فھو ربًا۔ (ردالمحتار ج:۵ ص:۱۶۶، مطلب کل قرض جرّ نفعًا حرام)۔
گاڑی‌بینک‌خرید‌کر‌منافع‌پر‌بیچ‌دے‌تو‌جائز‌ہے