سود
روپوںکاروپوںکےساتھتبادلہکرنا
سوال:۔
کیا روپوں کا روپوں کے ساتھ تبادلہ جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر جائز ہے تو کیا لینے والا اس کے بدلے میں روپے ایک دن کے بعد دے سکتا ہے یا ضروری ہے کہ اسی وقت دینا چاہئے؟ اور اگر اس وقت دینا ضروری ہے تو کسی کے پاس اس وقت نہ ہوں تو کیا یہ حرام ہوگا یا حلال؟ براہِ مہربانی قرآن و حدیث کی روشنی میں بتلائیے۔
سوال:۔
اگر کسی کے پاس اس وقت رقم نہ ہو تو کوئی ایسی صورت ہے جس کی وجہ سے وہ رقم (روپے) ابھی لے لے اور اس کے بدلے میں رقم (روپے) بعد میں دے؟
جواب:۔
روپوں کا تبادلہ روپوں کے ساتھ جائز ہے، مگر رقم دونوں طرف برابر ہو، کمی جائز نہیں، اور دونوں طرف سے نقد معاملہ ہو، اُدھار بھی جائز نہیں۔(۱)
جواب:۔
رقم قرض لے لے، بعد میں قرض ادا کردے۔(۲)
- (۱) فإن وجدا حرم الفضل أی الزیادۃ والنساء۔ (الدر المختار، کتاب البیوع، باب الربا ج:۵ ص:۱۷۲، طبع سعید)۔
- (۲) ویجوز القرض فی الفلوس لأنھا من العددیات المتقاربۃ کالجوز والبیض۔ (بدائع ج:۳ ص:۳۹۵، طبع سعید)۔

