سود
متعینمنافعکاکاروبارسودیہے
سوال:۔
میں ذاتی طور پر سود کے خلاف ہوں اور کسی ایسے کاروبار میں قدم نہیں رکھتا جس میں سود کی آلائش کا اندیشہ ہو۔ میں ایک دو کمپنیوں میں رقم لگاکر حصہ دار کے طور پر شامل ہونا چاہتا ہوں، مثلاً: تاج کمپنی یا قرآن کمپنی۔ ایک تو یہ کمپنیاں قرآن شریف اور دِینی کتب کی اشاعت جیسا نیک کام کر رہی ہیں اور منافع بھی اچھا دیتی ہیں، ان کی شرائط یہ ہیں کہ کم از کم تین سال کے لئے جتنی مرضی ہو رقم جمع کرائیں، رقم کے مطابق انہوں نے مختلف منافع کی شرحیں مقرّر کر رکھی ہیں، جو وہ باقاعدگی سے ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی یا سالانہ (جیسے مرضی ہو) کے حساب سے بھیجتے ہیں۔ اب میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اگر ان کے کاروبار میں رقم جمع کرواکر شراکت کرکے میں کسی مقرّرہ شرح پر (جو کہ انہوں نے خود مقرّر کی ہے) منافع لوں تو یہ کاروبار سودی ہوگا یا کہ شرعی حساب سے جائز منافع ہوگا؟ مجھے یقین ہے کہ آپ ان کمپنیوں سے واقف ہوں گے اور معاملے میں مجھے صحیح راہ دِکھائیں گے۔
جواب:۔
جو کمپنیاں متعین منافع دیتی ہیں، یہ منافع سود ہے۔(۱) تاج کمپنی کا طریقۂ کار میں نے دیکھا ہے، وہ خالص سودی کاروبار ہے۔
- (۱) ومنھا أن یکون نصیب المضارب من الربح معلومًا علٰی وجہ لَا تنقطع بہ الشرکۃ فی الربح، کذا فی المحیط۔ فإن قال علٰی أن لک من الربح مائۃ درھم أو شرط مع النصف أو الثلث عشرۃ دراھم لَا تضح المضاربۃ، کذا فی محیط السرخسی۔ (عالمگیری ج:۴ ص:۲۸۷ کتاب المضاربۃ، طبع رشیدیہ کوئٹہ)۔

